چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 183
183 زمانہ مہدی کی الہامی شہادات عکس حوالہ نمبر : 59 کی جس پرانی مستجیر بک یا امان الخائفین۔دوسری امام حسن کی جس پر انی واثق برحمتک کندہ ہو گا۔رین اقدس چالیس سال کا معلوم ہوگا۔اس طرح تنہا کر خانہ کعبہ پرپہنچیں گے۔اہل مکہ سو جائیں گے۔حضرت دست مبارک روڑے اقدس پر پھیریں گئے اور فرمائیں گے۔حمد و شکر اُس خدا کا جس نے ہمارے وعدے کو بچا گیا اور بہشت کو ہماری میراث کی کہ جہاں ہم چاہیں قرار کریں۔بعد اس کے درمیان محجر اسود اور مقام ابراہیم پر آپ کھڑے ہونگے اور ایک نمود نور زمین سے آسمان تک بلند ہوگا۔صبح کو تین سو تیرہ مومنین خدمت حضرت میں حاضر ہوں گے۔جن میں سے کچھ مومنین ہندوستان سے مذکور ہیں۔(علمدار حضرت امام عصر محمد حنفیہ ہوں گے ) ہو جب حدیث امام علی رضا، اسی ہزار ملانگ محمد تین قبر الحسین حضرت قائم کے پابہ رکاب شریک جہاد ہوں گے اور انتقام خون ناحق مظلوم کربلائیں گے۔امام عصر کے ظہور کا تعین اگر چہ روایات میں امام عصر کے ظہور کی صرف علامات ہی بیان کی گئی ہیں اور اس کے تعین کی نفی کی گئی ہے مگر اس سلسلہ میں ایک روایت اور ایک خواب ہم درج کرتے ہیں۔جس کو رویائے صادقہ کہا جاسکتا ہے جس سے آپ کے وقت ظہور پر روشنی پڑتی ہے۔وہ تو ہوا۔علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے اپنے رسالہ رجعت میں تفسیر عیاشی سے ایک روایت درج کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ يقوم قائمنا عند انقضائها باترا۔یعنی ہمارا قائم - الترا کے خاتمہ پر قصور کرے گا۔اس حدیث کے معنی علامہ مجلسی نے یوں کئے کہ قرآن کے پانچ سورے جہاں الراء" آیا ہے اس کو جمع کرکے اس کے عدد دھوڑے 1100 ہجری بنا جو گزر گیا۔اور آپ کا ظہور نہیں ہوا۔وہ پانچ سورے یہ ہیں۔(1) ہوں۔(۲) ابراہیم (۳) حجر (۳) یونس (۵) یوسف - حالانکہ قرآن کریم میں ایک چھٹا سورہ اعدہ بھی ہے۔جس میں اترا ہے۔لہذا آپ کل چھ سورے ہوئے اقرار کے عدد ۲۳۱ ہیں۔اس کو ل سے ضرب دینے پر ۱۳۸۶ پکاتا ہے۔یہ اگر جہ محملات میں سے ہے لیکن اگر اس کا یہی مطلب ہے جو علامہ مجلسی نے سمجھا ہے۔تو سا چھہ یعنی آج سے دو سال بعد آپ کا ظہورہ موفور السرور ہوگا۔عجل الله تعالی فرجه و سبیل الله مخرجا -