چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 178 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 178

178 عکس حوالہ نمبر : 57 17 زمانہ مہدی کی الہامی شہادات پیدا ہو گیا تھا۔جو شخص یہ منی منی زیادہ پیش کرتا تھا، آنا ہی وہ عوام میں مقبول ہوتا۔اور ان کی عقیدت و احترام کا مرکز بنتا ، عیار دور ولیوں اور چالاک دین فروشوں نے خوام کی اس ذہنیت سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔طبیعت میں اور دماغ نا قابل فہم چیز کے متبول کرنے کے لیے ہر نئی پیز کو ماننے کے لیے ، ہر دعوت و فکر کا ساتھ دینے کے لیے اور ہر روایت و افسانے کی تصدیق کے لیے تیار ہوگئی تھی۔مسلمانوں پر عام طور پر یاس و ناامیدی اور حالات و ماحول سے شکست خوردگی کا غلبہ تھا شاہ کی عد وجود کے انجام اور مختلف دینی اور عسکری تحریکوں کی ناکامی کو دیکھ کر معتدل اور معمولی ذرائع اور طریقہ کار سے انقلاب حال اور اصلاح سے لوگ مایوس ہو چلے تھے۔اور عوام کی بڑی تعداد کسی مرد غیب کے ظہور اور کسی ملھم اور موید من اللہ کی آمد کی منت نظر متھی۔کہیں کہیں یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا تھا کہ تیرہویں صدی کے اختام پر مسیح موعود کا ظہور ضروری ہے، جلسوں میں زمانہ آخر کے ستنوں اور واقعات کا چھر چاتھا۔شاہ نعمت اللہ ولی کشمیری کے طرز کی پیش گوئیوں اور الہامات سے سہارا حاصل اور غم کیا غلط کیا جاتا تھا۔خواب ، فالوں اور غیبی اشاروں میں مقناطیس کی کشش تھی۔اور وہ ٹوٹے ہوئے دلوں کے لیے مومیائی کا کام دیتے تھے۔پنجاب ذہنی انتشار دبے چینی ، ضعیف الاعتقادی اور دینی نا واقفیت کا خاص مرکز تھا۔ہندوستان کا یہ علاقہ اسی برس سے مسلسل سکھ حکومت کے مصائب برداشت کر چکا تھا۔جو ایک طرح کی مطلق العنان فوجی حکومت متی، ایک صدی سے کم کے اس عرصہ میں پنجاب کے مسلمانوں میں عقاید میں تزلزل اور دینی حیثیت میں خاصا ضعت آپ کا مقار مسیح اسلامی تعلیم عرصہ سے منتو بھی۔اسلامی زندگی اور معاشرے کی بنیادیں متزلزل ہو کا بھی رانوں اور طبیعتوں میں انتشار پراگندگی تھی اور