چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 167 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 167

167 زمانہ مہدی کی الہامی شہادات متفرق شہادات ان کے علاوہ بھی کئی علماء جن کو حضرت بانی جماعت احمدیہ ( جو عین چودھویں صدی کے سر پر نشانات کے ساتھ آئے ) کو مسیح و مہدی کے طور پر شناخت کی توفیق نہ ملی وہ اپنے ہم خیال ساتھیوں سے وعدہ فردا ضرور کرتے رہے، مگر اپنے بیان سے اس بات پر ضرور مہر ثبت کر دی کہ مہدی کی صدی چودھویں ہی تھی۔علامہ ابو حفص محمد عتیق اللہ صاحب کی گواہی علامہ ابو حفص محمد عتیق اللہ 1301ھ میں تحریر فرماتے ہیں:۔اب تیرھویں صدی بھی ختم ہوگئی۔نو ماہ گذر گئے۔دیکھئے اس صدی کے سر پر کس کو یہ خلعت فاخرہ مرحمت ہوتا ہے۔اللہ کرے امام مہدی علیہ السلام ہی آجائیں وہی اس صدی کے مجد دہوں گے۔“ حسن المساعي الى نصح الرعية والراعی صفحہ: 296) علامہ سید محمد عبدالحئی صاحب کی گواہی ایک بزرگ عالم سید محمد عبد الحی ابن حکیم سید محمد عبد الرزاق مرحوم بن سید فتح علی مغفور سا کن قدیم منڈ واضلع فتح پور نے ایک کتاب ماہِ رجب 1301 ھ میں تالیف کی اور 1309ھ میں شائع ہوئی۔کتاب کا نام حدیث الغاشیہ ہے اور لفظ غاشیہ کے اعداد بھی 1317 بنتے ہیں۔گویا اس نام میں بھی صاحب کتاب نے چودھویں صدی کی طرف اشارہ کیا ہے اور کتاب میں بھی امام مہدی کے ظہور کا آخری زمانہ تیرھویں صدی بتایا ہے اور لکھا ہے کہ تمام علامات ان کی ظاہر ہو چکی ہیں۔اب وقت ظہور کا بہت قریب ہے۔صفحہ 345 کے حوالہ سے ظاہر ہے کہ آخری وقت ظہور مہدی کا تیرھویں صدی بتایا گیا تھا اور علامات بھی ان کے ظہور کی پوری ہو چکیں۔صفحہ 350 کے حوالہ میں چودھویں صدی میں مہدی کیلئے شدت انتظار کا اظہار ہے۔ملاحظہ ہو کس حوالہ نمبر 54 : حدیث الغاشیہ صفحہ 350,345 - المكتبة الاثر یہ سانگلہ ہل ضلع شیخوپورہ