چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 135
135 چاندوسورج گرہن 2- حضرت میاں محمد الدین صاحب گجرات: ( بیعت: 1896) بیان کرتے ہیں:۔میں براہین احمدیہ پڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت پر ایمان لا چکا تھا اور بیعت کے لئے ابھی خط نہیں لکھا تھا۔شام کے وقت میں اور میاں ( مرزا) محمد نسیم صاحب بلانی کی مسجد میں اس کے صحن کی مشرقی دیوار پر بیٹھے تھے۔۔12 رمضان جو شب تیرھویں تھی۔چہارشنبہ (بدھ کے روز چاند گرہن لگا۔میرے پاس گھڑی نہ تھی۔مگر بعد میں معلوم ہوا ساڑھے چھ بجے دو گھنٹہ خسوف رہا۔اور 28۔رمضان بروز جمعہ ساڑھے سات بجے دن کے کسوف یعنی سورج گرہن رہا۔جس کی بابت محمد نسیم صاحب نے احوال الآخرۃ کا یہ شعر سنایا:۔تیرھویں چن ستیویں سورج گرہن ہوسی اوس سالے اندر ماه رمضانے لکھیا اک روایت والے بعد اس کے تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ستیویں رات کا تب کی غلطی ہے بموجب حدیث دار قطنی اٹھیویں چاہئے تھی۔“ (رجسٹر روایات غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 123) 3۔حضرت عبد الرؤف بھیروی صاحب ( بیعت : 1898) بیان کرتے ہیں:۔بچپن کے زمانہ میں میری عادت تھی۔۔۔مدرسہ سے جب فراغت ہوتی تو گھر میں آکر دینی کتابوں کا مطالعہ کرتا تھا مثلاً احوال الآخرة، زينت الاسلام و زینت الایمان وغیرہ وغیرہ۔ان میں امام مہدی و عیسی وغیرہ کی نشانیاں بھی پڑھتا تھا۔۔۔جب ماہ رمضان میں سورج گرہن اور چاند گرہن 1311ھ میں ہوا۔ان کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔شیشہ پر سیاہی لگا کر دیکھا۔۔۔میرا بھائی غلام الہی جس کا نام 313 میں درج ہے وہ مجھ کو قادیان 1898ء میں ہمراہ لایا اور آ کر دستی بیعت کر کے پھر بھیرہ کو واپس چلا گیا۔“ رجسٹر روایات غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 6 صفحہ 276-279)