چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 116 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 116

116 چاند سورج گرہن حدیث نبوی میں چاند و سورج گرہن کی تاریخوں کی تعیین حدیث مبارکہ میں مذکور " اول لیلۃ " اور " فی النصف " سے یکم رمضان اور 15 رمضان کو گرہن لگنا مراد نہیں جیسا بعض لوگوں کا خیال ہے۔کیونکہ پہلی کے چاند کو ہلال کہتے ہیں جبکہ حدیث میں قمر کے الفاظ ہیں جو تیرھویں۔چودھویں کے چاند کے لئے آتا ہے۔دوسرے پہلی چاند کا گرہن قانون قدرت کے بھی خلاف ہے۔چاند کو ہمیشہ اس کی 13، 14، اور 15 کو گرہن لگتا ہے جبکہ سورج کو گرہن 27، 28، اور 29 کی قمری تاریخوں میں لگتا ہے اس میں تبدیلی نہیں آسکتی کیونکہ یہ سب سیارے اپنے مقررہ مستقل مدار پر گردش میں ہیں (لیس: 29 تا 41) اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چاند گرہن کے ذکر میں اول لیلہ سے مراد 13 رمضان جبکہ سورج گرہن کے ذکر میں فی النصف سے مراد 28 رمضان مراد ہے۔اس امر کی تائید میں بزرگان سلف کے حوالہ جات پیش ہیں:۔مجموعہ فتاوی ابن تیمیہ کے مطابق چاند و سورج گرہن کی تاریخیں: علامہ ابن تیمیہ (متوفی : 728ھ) سے قمری مہینہ کی 14 تاریخ کو چاند گرہن اور 29 کو سورج گرہن کے بارے میں فتویٰ پوچھا گیا تو انہوں نے اس کا جواب لکھا کہ :۔چاند اور سورج گرہن کے اوقات اسی طرح مقرر ہیں جس طرح ہلال کے طلوع ہونے کا وقت مقرر ہے اور دن رات کے پیدا ہونے اور گرمی سردی کے آنے کے موسم مقرر ہیں اور یہ سب سورج اور چاند کی گردش کی پیروی کرتے ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قانون بھی جاری ہے کہ ہلال تیسویں یا اکتیسویں دن نکلتا ہے اور یہ کہ مہینہ میں یا انتیس کا ہوتا ہے تو یہ گمان کرنا کہ مہینہ اس سے کم یا زیادہ ہوسکتا ہے غلط ہے۔چاند کے مکمل ہونے کی یہ تاریخیں 14،13 اور 15 روشن را تیں کہلاتی ہیں جن کا روزہ بھی رکھنا بھی مستحب ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قانون بھی جاری ہے کہ سورج کو گرہن صرف اس وقت لگتا ہے جب چاند چھپ جاتا ہے ( یعنی 27 تا 29 کی قمری تاریخیں) ملاحظہ ہو عکس حوالہ نمبر 33: مجموعہ فتاوی ابن تیمیہ المجلد الاول صفحه 320 مطبوعہ 1983ء، بیروت