چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 98
98 چاند وسورج گرہن حکمۃ البالغہ مصنفہ ابوالجمال احمد مکرم عباسی (مطبوعہ مدرسہ نظامیہ 1332ھ) میں بھی سورۃ القیامۃ کی مذکورہ بالا آیات سے کسوف و خسوف مرادلیا گیا ہے۔ملاحظہ ہو:۔عکس حوالہ نمبر: 27 ۶۴۹ وقوع الشمس والقمر دونوں ایک جگہ جمع کر دئے جائیں۔- جان کے گھن سے بعض لوگوں نے تو یہی گہن مراد لیا ہے جوہمیشہ ہو اگتی مگر یہ قول ساقط ہے کیونکہ ایسے گہن کو علامات قیامت سے کوئی مناسبت نہیں ہے بعض مفسرین نے چاند گہن سے اسکی روشنی کا زائل ہونا مراد لیا ہے اور یہی صحیح ہے چاند سورج کے جمع ہونے سے کیا مطلب ہے اس میں بھی بین المشرمن اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ سورج اور چاند دونوں ایک جگھ جمع ہو جائیں گے اور اکثروں کا یہ مسلک ہے کہ چاند و سوچ دونوں اکھٹے ہوں گے لینی دونوں کی روشنی زائل ہو جائیگی۔فلسفی اعتراض کرتا ہے کہ چاند سورج کا اکھٹا ہونا اور چاند میں گہن لگنا دونوں با تیں ایک وقت میں نہیں ہو سکتیں کیونکہ چاند میں گہن اسوقت لگتا ہے جب اس کے اور سورج کے بیچ میں زمین حائل ہوتی ہے تو آیت کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ہی وقت میں دونوں اکھٹا بھی ہوں گے اور ایک دوسرے سے ہزاروں لاکھوں کوس کے فاصلہ پر بھی ہوں گے اور یہ اجتماع ضدین حال جوا قرآن مجید میں یہ تونہیں فرمایا گیا ہے کہ چاند گہن اور چاند سورج کا اجتماع ایک ہی آن میں ہوگا بلکہ ان دونوں خبروں کو صرف عاطفہ واو کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جو صرف جمع کے لئے آتا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ قیامت سے پہلے چاند میں کہن لگیگا اور چاند سورج اکھٹا کئے جائیں گے رہی یہ بات کہ