چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 32 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 32

32 قرآن کریم میں زمانہ ظہور مہدی ومسیح کی خبر 5۔پانچویں آیت وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ للسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا (الزخرف: 62) یعنی يقيناً يه قیامت کی نشانی ہے پس اس میں شک نہ کرو۔حضرت ابن عباس کی ایک روایت کے مطابق اس آیت ( میں ان کی ضمیر ) سے مراد حضرت عیسی بن مریم ہیں اور اس آیت سے ( بطور قیامت کی نشانی ) قرب قیامت میں ان کا نزول مراد ہے۔(المستدرک علی الحین للحاکم جزء 2 صفحہ 486) مفسرین میں سے علامہ ابن جریر نے طبری میں، امام رازی نے تفسیر کبیر میں، علامہ ابوحیان نے البحر المحیط میں ، علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اور علامہ سیوطی نے در منثور میں اس آیت سے مذکورہ بالا روایت کے مطابق حضرت عیسی کا دوبارہ نزول مراد لیا ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابن عباس کی اس روایت کو صحیح بخاری میں ان کی اُس دوسری روایت پر ترجیح نہیں دی جاسکتی جس میں خود انہوں نے آل عمران کی آیت يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ ( آل عمران : 56) میں توفی کے معنی موت بیان کر کے حضرت عیسی کی وفات تسلیم کی ہے۔( صحیح بخاری کتاب التفسير باب زیر آیت سورۃ المائدة:103) پھر بخاری میں ہی حضرت ابن عباس کی دوسری روایت سے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي (اے اللہ ! جب تو صلى الله نے مجھے وفات دے دی۔المائدة 118) کے تحت رسول اللہ ﷺ کی بیان فرمودہ یہی تفسیر بمعنی موت بیان کی ہے۔( صحیح بخاری کتاب النفسير سورة المائدة) اس آیت سے حضرت عیسی اور رسول اللہ یہ دونوں کی وفات ثابت ہوتی ہے اور چونکہ قرآنی فیصلہ کے مطابق وفات کے بعد کوئی شخص جسم سمیت دوبارہ دنیا میں نہیں آسکتا (الانبیاء: 96)لہذا حضرت مسیح کا جسمانی طور پر دوبارہ نزول اس آیت سے مراد نہیں ہوسکتا۔چنانچہ علامہ عبد الرؤوف مناوی نے فیض القدیر شرح جامع الصغیر میں ، علامہ ابن حجر ہیثمی نے الصواعق المحرقہ میں ، علامہ شبلنجی نے نورالابصار میں تابعی مقاتل بن سلیمان (متوفی: 150ھ ) کے حوالہ سے اسی آیت سے بجائے مسیح ناصری کے امام مہدی کا ظہور مراد لیا ہے۔بعید نہیں کہ ان کی یہ رائے