چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 31
31 قرآن کریم میں زمانہ ظہور مہدی ومسیح کی خبر عکس حوالہ نمبر : 2 ۳۲۹ رواں رہے ہیں۔جسکے آخری خاندان فارس کی شہنشاہی کا تھا جو کہ یہ قبل از مسیح سکندر کے ہاتھوں من ہوگیا۔ان میں سے حضرت یوسف کا فرعون یہیں از عمالقہ کے خاندان سے تھا جو دراصل وب خاندانوں ہی کی ایک شاخ بھی تو اب سوال یہ ہو کہ حضرت موسی علیہ اسلام کے ب د کاوون دن ہو اور کس خاندان سے متعلق ہو ؟ عام مورخین عرب اور مفسرین اس کو بھی عمالقہ اسی کے خاندان کا فرد بتاتے ہیں اور کوئی ان کا نام ولید دین مصوب ابن ریان بتاتا اور کوئی منصوب بن ریان کہتا ہو اور ان میں سے ازریاب نفین کی رائے یہ ہو کہ اس کا نام ریان یا ریان ابا تھا۔ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس کی کنیت ابو مر ہتھی۔یہ سب اقوال قدیم مورخین کی تحقیقی روایات پر مبنی تھے مگر اب اجہ بہ مصری اثری تحقیق رجری کتبات کے پیش نظر اس سلسلہ میں دوسری رائے سامنے آئی ہوں۔وہ یہ کہ موسی علیایت نام کے ان کا فرعون رییس ثانی کا بیٹا منفتاح ہو جس کا دور حکومت یا قوم سے شروع ہو کر ایم ختم ہوتا ہو۔اس تحقیقی روایت سے متعلق احمد یوسف احمد آفندی نے ایک مستقل مضمون لکھاہے یہ مصری ار کے مصور میں اور اثری و جرای تحقیق کے بہت بڑے عالم ہیں اُن کے اس مضمون کا نہ بعد نجار نے قصص الانبیاء میں نقل کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے۔یہ بات پاپ تحقیق کو پہنچ چکی ہو کہ یوسف علیہ السلام جب مصر میں داخل ہوتے ہیں تو یہ فرصت کے موالی ویا خاندان کا زمانہ تھا اور اس فرعون کا نام ابابی الاول " تھا جس نے اس کی شہادت اس مجری کشید سے حاصل کی جو عزیز مصر فوتی فارع ، فوطیفاء کے مقبرہ میں پایا گیا۔اور سترہویں خاندان کے بھتی آثار سے یہ بھی ثابت ہوچکا ہو کہ اس نماندان سے قبل گر قریب ہی زمانہ میں مصر میں ہولناک قحط پڑ چکا تھا۔لہذا ان تعینات کے بعد آسانی سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ حضرت یوسف کا داخل مصر ابابی الاول کے زمانے میں تقریاست تراقم ہوا ہو۔اور حضرت یوسفت کا عزیز مصر کے یہاں پہنا اور پھر قید خان کی زندگی بسر کر تا ان دونوں کی مدت کا اندازہ کر کے کہا جا سکتا ہو کہ نی ارائیل حضرت دیست