چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 271
271 مسیح موعود پر ایمان لانے کی ضرورت؟ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ 1974ء میں احمدیوں کو ناٹ مسلم قرار دینے کے بعد سے لے کر آج تک تمام مسلمان فرقے تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر جماعت احمدیہ کے خلاف نہ صرف مخالفت کی آگ بھڑکانے میں متحد ہیں بلکہ احمدیوں کے مکانوں، دکانوں، مساجد کو ظاہری آگ لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور اس طرح عملاً یہ پیشگوئی پورا کرنے کا موجب ہوتے ہیں۔دوسری طرف جماعت احمد یہ عالمگیر کی مسلسل ترقیات دیکھ کر بھی حسد کی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔پس اس دنیا میں اس آگ میں شامل ہونے کی یہ گواہی جہنم کی آگ پر ایک قرینہ تو ہوسکتی ہے قطعی دلیل نہیں۔اس لئے دیگر کلمہ گو فرقوں کو جہنمی کہنے سے گریز کرنا ہی امن کا راستہ ہے۔یہ ذکر ہو چکا ہے کہ مسلمانوں میں فرقہ بندی والی اس حدیث کی تائید قرآن شریف سے بھی ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا: - إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (الانعام : 160) یعنی یقینا وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ در گروہ ہو گئے، تیرا ان سے کچھ بھی تعلق نہیں ان کا معاملہ خدا ہی کے ہاتھ میں ہے پھر وہ اُن کو اُس کی خبر دے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔اسی طرح صحیح بخاری میں ہے کہ ایک وقت آئے گا جب رسول اللہ اللہ کے راستہ پر چلنے والے گروہ یہ راستہ چھوڑ دیں گے۔تب حضرت حذیفہ بن الیمان نے عرض کیا یا رسول اللہ ! جاہلیت کے شتر اور خرابیوں کے بعد اسلام کی خیر ہمیں نصیب ہوئی۔کیا اب اس خیر کے بعد پھر کوئی شتر آنیوالا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں اس میں دھواں اور دھندلاہٹ ہوگی۔عرض کیا کیسا دھواں؟ فرمایا ایک ایسی قوم ہوگی جو میرا طریق چھوڑ کر دوسرے راستہ پر چلے گی۔پھر اس کے بعد آنیوالا شتر جہنم کی دعوت دینے والے لوگ ہیں جو ان کی بات مانے گا اسے اس میں ڈال دیں گے۔حضرت حذیفہ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہ ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا: - تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ یعنی تم مسلمانوں کی اس جماعت میں شامل ہونا جن کا ایک امام ہو۔عرض کیا اگر کوئی جماعت یا امام نہ ہو ؟ رسول کریم ﷺ نے