چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 270 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 270

270 مسیح موعود پر ایمان لانے کی ضرورت؟ اس حدیث کو امام ترمذی نے فنی لحاظ سے ”حسن غریب“ قرار دیا ہے یعنی حدیث عمدہ ہے مگر صرف ایک سند سے مروی ہے چونکہ قرآن شریف اور صحیح بخاری سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے نیز عملی طور پر خود واقعات زمانہ نے بھی اس حدیث کو سچا ثابت کر دیا ہے اس لئے یہ حجت ہے۔حدیث میں مذکور مسلمانوں کے تہتر 73 فرقے بعض علماء نے تو نام بنام شمار کر کے بھی دکھائے ہیں۔( مرقاۃ المفاتیح اردو جلد اول صفحہ 767) لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ چودہ سال میں بننے والے مسلمان فرقوں کا شمار اس سے بھی کہیں زیادہ ہو چکا ہے۔لہذا یہاں ستر 70 کا عد دمحاورہ عرب کے مطابق کثرت کے لئے ثابت ہوتا ہے جیسا کہ خود قرآن کریم نے یہ محاورہ استعمال کیا ہے۔(التوبة: 80) حدیث کے الفاظ كُلُّهُمْ فِي النَّار کے جو معنے اہل سنت نے کیے وہ عکس ترجمہ صفحہ 227 سے ظاہر ہیں کہ سوائے ایک مذہب یا فرقہ کے باقی سب دوزخی ہیں۔ہمارے نزدیک یہ معنے سورہ البقرہ کی آیت 81 اور 112 کی روشنی میں درست نہیں کیونکہ کسی کے جہنمی یا جنتی ہونے کا علم صرف خدائے عالم الغیب کو ہے لہذا کسی کے دوزخی ہونے کا بلا دلیل فتویٰ قابل قبول نہیں۔سب فرقوں کے فِی النَّارِ یعنی آگ میں ہونے سے مراد قرآنی محاورہ کے مطابق لڑائی اور نفرت و مخالفت کی آگ بھڑکانا بھی ہوسکتا ہے (سورہ المائدہ: 65) یعنی سارے فرقے مل کر ایک ناجی فرقہ کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جائیں گے۔دوسرے یہاں حسد کی آگ بھی مراد ہو سکتی ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ حسد انسان کی نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔(ابو داؤد کتاب الادب باب في الحسد) مزید برآل كلهم في النار جملہ اسمیہ ہے جس میں استمرار کی وجہ سے حال و استقبال دونوں کا مفہوم ہے یعنی وہ سب فرقے زمانہ حال میں بھی آگ میں ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔اس جملہ کا یہ حالیہ مفہوم صرف مخالفت و نفرت اور حسد کی آگ پر ہی چسپاں ہوتا ہے۔ضرورت یہ جائزہ لینے کی ہے کہ آخر فی زمانہ وہ کونسی جماعت ہے جس کے خلاف سارے مسلمان مخالفت اور نفرت کی آگ بھڑ کانے میں متحد ہیں، بلاشبہ وہی مذہب یا جماعت ناجی ہوگی۔