چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم

by Other Authors

Page 219 of 296

چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 219

219 علامات مسیح و مہدی اور چودھویں صدی حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔سورۃ التکویر میں جہاں اس زمانہ کے حالات کی پیشگوئیاں ہیں وہاں اسلام کی آئندہ ترقی بھی مسیح موعود کے ذریعے سے ہی وابستہ کی گئی ہے۔“ ( خطبہ جمعہ 3 فروری 2006) سورة الانفطار میں علامات زمانہ مہدی شرک اور بت پرستی کا عام ہونا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ (الانفطار : 2 ) کہ جب آسمان پھٹ جائے گا یعنی جس زمانہ میں مسیح موعود کا ظہور ہو گا اس زمانہ میں شرک اور عیسی پرستی دنیا میں پھیل چکی ہوگی جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ زمین پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ کرے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عیسی پرستی کی وجہ سے قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائے۔(سورۃ مریم: 91) یعنی دنیا میں طرح طرح کے عذابوں کا سلسلہ جاری ہو گا۔چنانچہ چودھویں صدی میں عذاب طاعون ، جنگوں اور زلزلوں کے ذریعہ یہ پیشنگوئی بھی پوری ہوئی۔علمائے دین کا نابود ہونا فرمايا: وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ (الانفطار : 3) یعنی جب ستارے جھڑ جائیں گے۔رسول کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کو بھی روشن ستاروں جیسے قراردیا، اس لحاظ سے آیت میں یہ پیشگوئی تھی کہ حقیقی علمائے دین دنیا سے نابود ہو جائیں گے اور ہدایت دینے والے لوگ کم ہو جائیں گے۔جیسا کہ سورۃ تکویر کی آیت وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَتْ (التکویر 3 ) میں تفصیل بیان ہو چکی ہے۔سمندروں کا باہم ملایا جانا پھر فرمایا: وَإِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَت (الانفطار : 4) یعنی سمندر یا دریا پھاڑ دیئے جائیں گے جیسا کہ سورۃ التکویر کی آیت وَإِذَا الْبِحَارُ سُحِرَت میں بیان ہوا ہے۔یعنی سمندروں کو باہم ملایا جائے گا جیسے چودھویں صدی میں ہی نہر سویز اور پانامہ اور دریاؤں کو پھاڑ کر نہریں بنائی گئیں۔