چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 176
176 عکس حوالہ نمبر : 56 ۲۹۲ زمانہ مہدی کی الہامی شہادات میں حق اور باطل دونوں ہیں۔حق کی علامت وحدت اور باطل کی علامت کثرت ہے، وحدت تعلیم سے متصل ہے اور کثرت رائے سے۔اور تعلیم جماعت کے ساتھ ہے اور جماعت امام کے ساتھ ہے، اس کے برعکس رائے مختلف فرقوں کے ساتھ ہے اور یہ فرقے اپنے سرداروں کے ساتھ متفق ہیں، لہذا حق کو باطل سے ممتاز کرنے اور حق و باطل کی مشاببت کو دور کرنے اور دونوں میں ایک طرح تمیز و تفریق کرنے کے لیے طرفین کے لیے ایک تراز و بنانا چاہیے جس میں سب کو وزن کیا جائے۔وہ کہتا ہے کہ یہ میزان (ترازو) ہم نے کلمہ شہادتین سے اقتباس کیا ہے جو کہ نفی اور اثبات سے مرکب ہے چنانچہ جو کچھ نفی کا مستحق ہے وہ باطل ہے اور جو کچھ اثبات کا مستحق ہے، وہ حق ہے۔اس ترازو میں ہم شیر و شکر ، صدق و کذب اور جملہ متضاد چیزوں کا وزن کرتے ہیں۔اس کلام کا راز اور نکتہ یہ ہے کہ اس مقالہ میں ہر لفظ امامت سے معلم اور توحید کے اثبات کی طرف راجع ہے اور یہ بات اثبات امامت کو مع نبوت کے اس طور پر شامل ہے کہ خود نبوت امامت سے مل کر نبوت ہوتی ہے، ان مباحث میں کلام کی انتہا نہیں ہے۔اس نے عوام کو علم میں غور و خوص کرنے سے اور خواص کو متقدمین کی کتابوں کے مطالعہ سے منع کیا، سوائے اس شخص کے جو کتابوں کے حالات کی کیفیت اور جن لوگوں نے باتیں کہی ہیں، ان کے درجات سے واقف ہو اور اپنے اصحاب کے لیے الہیات میں صرف اس پر اقتصار کیا کہ تمہارے لیے اللہ للہ محمد است۔“ اور مخالفین کہتے ہیں، اللہ اللہ معقول است یعنی وہ وہ ہے جس کی طرف ہر عاقل کی عقل ہدایت کرے۔جب لوگ ان لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ باری تعالی موجود ہے یا نہیں، وہ واحد ہے یا کثیر، عالم ہے یا جاہل اور قادر ہے یا نہیں تو جواب میں صرف اسی پر اکتفا کرتے ہیں کہ اللہ اللہ محمد است یعنی وہ خدا ہے جس نے رسول کو مخلوق کی طرف ہدایت کرنے کے لیے بھیجا اور رسول مخلوق کے بادی ہیں۔اس فرقہ کے لوگ اکثر مقامات پر ہیں لیکن مشرق کے کوہستانی علاقوں میں اور ختا و کاشغر کے نواح میں اور تبت میں بکثرت ہیں۔اس کتاب کے مصنف نے ۱۰۵۴ھ (۱۶۴۴ء) میں اس فرقہ کے ایک شخص مسمی میر علی اکبر کو ملتان میں دیکھا تھا۔اور ان باتوں میں سے اکثر اُسی سے سنیں۔خلفائے اسماعیلیہ نے مغرب میں کافی عرصہ خلافت میں گزارا۔خواجہ نصیر طوسی نے جس زمانے میں وہ خود کو اسماعیلی ظاہر کرتے تھے، اولین خلیفہ کے نسب کو جس طور سے اسماعیلیہ پسند کرتے ہیں، یوں بیان کرتا ہے۔محمد المهدی بن عبد اللہ بن احمد بن محمد بن اسماعیل بن جعفر صادق۔اس نے امامت کے مرتبہ کو ظاہر کی امارت کے ساتھ جمع کیا اور انہوں نے کہا ہے کہ مهدی آخر الزماں سے مراد محمد بن عبداللہ ہیں۔مخبر صادق سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا علی راس الف و ثلثمائة يطلع الشمس من مغربها ( ایک ہزار تین سو سال کے شروع میں آفتاب مغرب سے طلوع ہو گا۔) یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں لفظ شمس سے مراد محمد بن عبداللہ ہیں اور ابو یزید کو جس نے آپ کے خلاف سرکشی کی تھی ، دنبال سمجھتے ہیں۔اکثر فضلاء اسماعیلیہ کے پیرو ر ہے ہیں چنانچہ منجملہ افاضل شعراء کے امیر ناصر خسرو تھا جو اسماعیل