چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 131
131 چاند وسورج گرہن نشان چاند سورج گرہن کے نتیجہ میں قبول احمدیت صداقت حضرت مسیح موعود کے اس روشن نشان کے ظاہر ہونے پر مہدی موعود کے منتظرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔یہ نشان دیکھ کر سینکڑوں سعید الفطرت روحوں کو احمدیت قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی جس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت بانی جماعت احمدیہ نے فرمایا:۔”ہمارے لئے کسوف خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور صد ہا آدمی اس کو دیکھ کر ہماری جماعت میں داخل ہوئے۔“ (انوار الاسلام مطبوعہ 1894 ء روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 33 ایڈیشن 2008ء) ان خوش نصیبوں میں سے چند ایک کا نہایت دلچسپ مگر مختصر ذکر پیش ہے:۔1۔حضرت حاجی محمد دلپذیر صاحب بھیروی: آپ اعلیٰ پایہ کے پنجابی شاعر و ادیب تھے۔آپ کی بعض کتب پنجابی لٹریچر میں بطور نصاب شامل ہیں۔1894ء میں آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ نے اپنی منظوم پنجابی کتاب احوال الآخرت (مطبوعہ: 1316ھ) میں چاند گرہن کی تاریخ 13 اور سورج گرہن کی تاریخ 28 رمضان بیان کرتے ہوئے لکھا:۔چن سورج نوں گرہن لگے گا وچہ رمضان مہینے ظاہر جدوں محمد مہدی ہوسی و چہ زمینے ایہہ خاص علامت مہدی والی پاک نبی فرمائی و چہ حدیثاں سرور عالم پہلوں خبر سنائی تیراں سو یاراں سند وچ ایہہ بھی ہوگئی پوری گرہن لگا چن سورج تائیں جیونکر امر حضوری واہ سبحان اللہ کیا رتبہ پاک حبیب خدائی تیراں سو برس سال جس اگروں پیشگوئی فرمائی تیرھویں چن اٹھیویں سورج لگن گرہن دوہانوں ایہ تاریخاں سرور عالم خود کہہ گئے اساں نوں ماہ رمضان مہینے اندرا یہ سب واقع ہوسی جدوں امام محمد مہدی ظاہر اٹھ کھلوسی ملاحظہ ہو عکس حوالہ نمبر :41: احوال الآخرت صفحہ 50-51