چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم — Page 99
99 علامہ ابن عربی اور چاند سورج گرہن کے تعیین زمانہ کی پیشگوئی: چاندوسورج گرہن حضرت علامہ ابن عربی " ( متوفی 628ھ ) صاحب کشف بزرگ تھے۔علامہ ابن خلدون (متوفی: 808ھ) نے اپنے مقدمہ میں ظہور مہدی کے بارہ میں ان کا ایک قول نقل کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چاند اور سورج کو ظہور مہدی کے زمانہ میں گرہن ہوگا۔جو 1311 کا سال بنتا ہے اور اسی ہجری سال میں یہ گرہن واقع ہوا۔مورخ ابن خلدون علامہ ابن عربی کے اس قول کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:۔امام مہدی کا ظہور خ ف ج کے اعداد گزرنے پر ہو گا ، ان حروف سے مراد ان کے عدد بحساب ابجد لئے ہیں۔خ کے 600ف کے 80 اور ج کے 3 ہوتے ہیں اور ان کا مجموعہ 683 ہوتا ہے۔“ ملاحظہ ہو کس حوالہ نمبر 28 : مقدمہ ابن خلدون مترجم صفحہ 354 - ناشر اصح المطابع کارخانہ تجارت کتب آرام باغ فرمی روڈ کراچی دراصل یہ حروف ان آیات خَسَفَ الْقَمَرُ وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (القيامة: 10-9) کا مخفف ہیں جس میں چاند اور سورج کے اکٹھے گرہن لگنے کا ذکر ہے۔ابن خلدون نے تو اس سے ساتویں صدی میں ظہور مہدی و نشان گرہن مراد لیا مگر ان میں سے کوئی بات بھی ظاہر نہیں ہوئی۔اس پیشگوئی کی حقیقت علامہ ابن عربی کی وفات کے 683 سال بعد واقعاتی طور پر 1311ھ میں ظاہر ہوئی۔ابن عربی کی وفات کے سال (628ھ ) میں 683 سال جمع کریں تو 11 13 بنتا ہے، وہی سال جس میں سورج اور چاند کو رمضان المبارک 1311ھ بمطابق 1894ء میں بالترتیب 13 اور 28 رمضان کو گرہن ہوا۔