سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 61
باب ہفتم مغربی مستشرقین اب میں اس صدی کے چند مغربی مستشرقین کا جائزہ لے کر ان کی تصنیفات کا موازنہ پیش کروں گا جس سے یہ روز روشن کی طرح واضح ہو جائیگا کہ ان تمام کتابوں کا ماخذ ایک ہی ہے۔سرکار مدینہ، آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم ، قرآن پاک اور احادیث نیز وہ تمام امتیازی خصوصیات و نمایاں صفات جن کا اسلام سے ذرا سا بھی تعلق تھا سب پر ایک جیسے الزامات لگا کر ان کو نشانہ استہز ا بنایا گیا ہے۔مزید برآں جس بات کا پتہ چلتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ فریب کاری سے کام لیتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں۔ایک جگہہ پر وہ سرکار دو عالم ﷺ کے بارہ میں تعریفی کلمات کہتے تو اس کے معابعد وہ انہیں صلیب پر چڑھا دیتے ہیں۔منافقت ان کی تحریروں کا امتیازی وصف ہے اور اس کا استعمال اس وقت سے جاری ہے جب اسلام پر ابتدائی علمی حملے ہونا شروع ہوئے تھے۔روڈنسن (Maxime Rodinson) فرانسیسی مستشرق میکسم رو ڈنسن پیرس میں یہودی مزدوروں کی ٹریڈ یونین کے بانی کا بیٹا تھا۔روڈنسن نے بعد میں کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور دہر یہ ہو گیا۔اس کی سب سے مشہور اور متنازع سادہ سے عنوان والی تصنیف کا نام محمد ' ہے۔کتاب امحمد میں ساتویں صدی کے عرب معاشرہ پر اسلامی نظریات کے اثر کو زیر بحث لایا گیا ہے۔صلى الله اس کتاب میں وہ نبی پاک کے کارناموں کو ان کے دور کے آئینہ میں دیکھتا ہے لیکن کتاب میں آپ کے پاک کردار اور اسلام کی شریف النفس شخصیات پر ہتک عزت اور بہتان تراشی والے حملے یکے بعد دیگرے کئے گئے ہیں۔یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کی ولادت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے بھی اُکسانے کی کوشش کی گئی ہے جب ان کے والد محترم کو جنسی اشتہاء 61