سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 37 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 37

باب چهارم اسلام پر علمی اور ادبی حملے یورپ میں عیسائی محققین کے اسلام پر قابل ذکر حملے قرون وسطی میں خصوصاً بازنطینی علماء دین کی طرف سے آٹھویں صدی سے لیکر تیرھویں صدی کے دوران شروع ہوئے۔ایسے حملوں کا جرمنی کی یو نیورسٹی آف منسٹر (Munster) کے پروفیسر عادل تھیوڈور کھوری (Adel-Theodore Khoury) نے مطالعہ کیا ہے۔کتاب کا نام Polimeque۔359-365 Byzantine L'Islam, Leiden, Brill, 1972, pp ہے۔اس قسم کی تصانیف میں اسلام کی تصویر ایک جھوٹے مذہب کے طور پر پیش کی گئی ہے، ایسا مذہب جس کا رجحان بت پرستی کی طرف تھا۔محمد ( ﷺ) کو نعوذ باللہ ایک مفتری نبی کے طور پر پیش کیا گیا جو شیطان کا چیلہ تھا جس کا محرک ابوالکذب تھا۔اور وہ خود یقینا عیسی کا دشمن تھا۔آپ (صلعم) کی مزعومہ اخلاقی کمزوریوں کو سامنے رکھ کر بات کا بتنگڑ بنایا گیا ہے۔قرآن کو جھوٹی الہامی کتاب کہا گیا ہے جس میں محمد (صلعم) نے نہ صرف عہد نامہ عتیق اور جدید سے مواد نکال کر پیش کیا ہے، بلکہ اس میں ایسا مواد بھی شامل کیا گیا ہے جو منکرین جیسے مانے کینز (Manichaeans) کا وضع کردہ ہے، بلکہ اس میں من گھڑت مواد بھی شامل ہے۔اس طرح اسلام کی تصویر کشی ایک ضرر رساں، شیطان کی وحی سے محرک شدہ مذہب کے طور پر کی گئی ہے جس کی تباہی عیسائی علمائے دین کی دلی تمنا تھی۔اس ہتک اور افتراء پردازی کے کام کو آگے بڑھانے میں دوسرے عیسائی علما جیسے پیٹر دی ویز ایبل (Peter the venerable) ریکولڈ و مانٹی کروچ Ricoldo da Monte) Croce اور خاص طور پر ٹامس ایکوئے ناس (Thomas Acquinas ) نے پوری سعی کی۔انہوں نے ایسی کتابیں لکھیں جیسے Disputations against the Saracens 37