سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 179 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 179

پرائز کا منارہ گیا تھا۔لیکن جوں کو تنبیہ کر دینا ضروری ہے۔رشدی شکست کو عالی ظرفی سے قبول نہیں کرتا۔The Times کے لٹریر کی ایڈیٹر فلپ ہاورڈ (Philip Howard) نے اس کے ناول 'Shame' کی ناکامی کے بعد ہو نیوالے ہنگامہ کا ذکر کیا جبکہ ہر کوئی پہلے سے کہہ چکا تھا کہ یہ ضرور بوکر پرائز جیتے گا: " اس Shame کے بوکر پرائز جیتنے کے امکانات موجود تھے۔جب اس کو انعام نہ دیا گیا تو رشدی کے دل کو سخت ٹھیس پہنچی۔وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا اور آنے جانیوالے لوگوں اور جوں سے بدکلامی شروع کر دی"۔۔(The Times, February 15, 1989) شاید یہ رشدی کا شہرت اور عزت کیلئے شدید ہیجانی خواہش اور شوق تھا جس نے اس کو اسلام کے مخالف یہودی و نصرانی سازشیوں کا منظور نظر بنا دیا تھا۔ان لوگوں نے اس کو اپنی سر پرستی میں لے لیا اور رفتہ رفتہ اس کی ایسے رنگ میں پرورش کی تا وہ اسلام کے خلاف خبیثانہ اور سنگدلانہ صلیبی جنگ کا حصہ بن جائے اور اسلام کے نورانی نام کو مزید بد نام کر کے اس کا حلیہ بگاڑ دیا جائے۔جب رشدی اپنے ناول 'The Moor's Last Sigh' پر بوکر پرائز نہ جیت سکا تو اس کو سخت مایوسی ہوئی۔اس کے باوجود اس کے حواریوں سے اس کو بہت حوصلگی ملی جیسے Auberon Waugh جو The Literary Review' کا ایڈیٹر تھا۔اس نے کہا کہ ایک شخص " جس کا تعاقب مذہبی جنونیوں نے زمین کے ایک کونے سے لیکر دوسرے کونے تک کیا ہے اس کو لازماً کامیابی سے ہمکنار ہونا چاہئے " (1995) The Times, November )۔واہ کے اس حقیقت کا اعتراف کہ اس نے رشدی کے ناول کا مطالعہ تک نہ کیا تھا اس سے اس کو ملنے والی پُر جوش حمایت کی بیہودگی کا پتہ چلتا ہے یعنی رشدی کو محض آزادی تقریر کے نام پر انعام دیدیا جائے۔رشدی کو اس بات کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے کہ اگر اسے نوبل پرائز مل جائے تو اس کو اسے اپنے سازشی ساتھیوں میں بانٹنا ہوگا کیونکہ انہی کی وجہ سے تو وہ ایک اہم شخصیت بن سکا ہے۔شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اس چیز کی امید ایسے شخص سے وابستہ نہیں کرنی چاہئے جس کی زندگی کا واحد مقصد خود کو امیر اور طاقتور بنانا رہا ہے۔یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ رشدی 179)