سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 166
اسلام پر حملہ نہیں ہے "۔یه چیز کہ رشدی اس بات پر آمادہ ہو گیا کہ اس اوپر والے بیان کا اضافہ کر دیا جائے چاہے یہ عمداً تھا یا نہیں اس بات کا ثبوت ہے کہ ناول میں ایسا مواد تھا جو اسلام پر حملہ ہے۔مضمون کا ایک اور حصہ چند تکلیف دہ سوالات اٹھاتا ہے۔مضمون کے ایک حصہ کا تعلق اس کا چھ مسلمان علماء سے کرسمس کے موقعہ پر ملنا ہے تا وہ تردیدی بیان جاری کر سکے : " انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ میں نے حقیقہ گزشتہ پندرہ سالوں میں مسلمانوں کا طرفدار ہونے کا ثبوت دیا ہے خواہ یہ کشمیر کا معاملہ ہو، یا باقی ماندہ بھارت کا یا فلسطین یا برطانیہ کا۔میں نے ہر قسم کی عصبیت کے خلاف مضامین لکھے اور ٹیلی ویژن پر اس کا اعلان کیا"۔اگر وہ اپنے آپ کو ایسا شخص تصور کرتا ہے جس نے اسلام کے مقاصد کی بھر پور حمایت کی ہے تو پھر اس نے اسلام کے نام کو نقصان پہنچانے والا ناول شائع کر کے مسلمانوں کے اعتماد کو ٹھیس کیوں پہنچائی جن کیلئے وہ صدائے احتجاج بلند کر رہا تھا ؟۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کا وہ دعویٰ جو اسلام کے لئے ہمدردانہ جذبات کی طرف اشارہ کرتا ہے وہ بالکل بے بنیاد ہے۔اس کی تمام گزشتہ کتابوں میں جو بیس سال کے عرصہ پر محیط ہیں ان میں سے میں نے جو حوالہ جات پیش کئے ہیں وہ قطعی طور پر اسلام کیلئے اس کی نفرت ثابت کرتے ہیں۔دوسرے یہ کہ اگر انسان رشدی کوشک کا فائدہ دے اور یہ مان لے کہ وہ واقعی سچا مسلمان ہے اور یہ کہ اس نے بعض دفعہ اسلامی عقائد کے دفاع میں آواز بلند کی ہے تو ہم کیسے یقین کر لیں کہ اس نے ایسی کتاب لکھی جس نے اسلام کے مقدس نام کو اس قدر نقصان پہنچایا جس نے ادبی تاریخ میں سب سے زیادہ بدنامی اور ناگواری پیدا کی۔انسان اس بات پر یقینا ورطہ حیرت میں پڑ جاتا اور بے چینی میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ہر قسم کے حقائق اس سازش کی طرف رہ نمائی کرتے ہیں جہاں کشمیر، ہندوستان اور پاکستان سے کہیں بڑے سورماؤں" نے مل کر رشدی کی حمایت کی اور اس کے افسانے میں لفظوں کی ہیرا پھیری کے ادبی طریقے کو استعمال کیا تا وہ اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔علاوہ ازیں اس کو اتنی دولت اور اتنی شہرت کے وعدے دئے گئے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ آسکتے تھے۔166