سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 164
رشدی کا الٹے پاؤں پھر جانا دو سال روپوش رہنے کے بعد سلمان رشدی نے اپنا لہجہ بدل لیا۔شاید یہ بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے تھا یا شاید اس کے قصور وار ضمیر نے اس کو ملامت کیا یا شاید یہ اس کی کم ہمتی کی وجہ سے تھا۔رشدی نے اب ایک بیان جاری کیا جس میں اس نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے آخری نبی ہیں۔دی ٹائمنر اخبار کے مذہبی امور کے رپورٹر روتھ گلیڈ ہل (Ruth Gledhill) نے The Stanic Verses میں موجود رشدی کے بیانات کی تردید میں 27 دسمبر 1990ء کو مضمون سپر دتحریر کیا۔رشدی کا تردیدی بیان کرسمس کے موقعہ پر اس کی مصر کے مذہبی امور و اوقاف کے وزیر محمد علی ماغوب، اور دوسرے مسلم اکابرین کے ساتھ ملاقات کے بعد جاری ہوا۔علاوہ دیگر باتوں کے اس بیان میں کہا گیا : وہ ناول میں بولنے والے کرداروں کے ادا کئے گئے بیانات سے اتفاق نہیں کرتا جو مذہب اسلام کی توہین کرتے ہیں۔اس نے اس بات پر آمادگی کا اظہار کیا کہ " دی سٹینک ورسز " کا پیپر بیک ایڈیشن اور ناول کے مزید تراجم کی وہ اس تنازعہ کے دوران اجازت نہ دے گا"۔اس بیان سے واضح ہے کہ ناول میں اسلام کے خلاف توہین آمیز مواد موجود تھا اور یہ کہ وہ اس سے بخوبی آگاہ تھا۔اس نے تردیدی بیان کو درج ذیل وعدہ کے ساتھ ختم کیا: "میں اسلام کو دنیا میں بہتر طور پر سمجھنے کے لئے کام جاری رکھوں گا جیسا کہ میں نے ماضی میں ہمیشہ ایسا کرنیکی کوشش کی تھی"۔رشدی نے دی ٹائمنر اخبار میں 28 دسمبر 1990ء کو مضمون لکھا جس میں اس نے گذشتہ تردیدی بیان کی وضاحت درج ذیل عنوان کے تحت کی امیں اسلام کی آغوش میں کیوں آیا ؟۔شاید یہ فتویٰ کے خوف کی وجہ سے اس کے سر پر تھو پا گیا تھایا شاید اس نے صمیم قلب سے توبہ کر لی تھی۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ برطانوی حکومت کے ایران کے خلاف کوئی ایکشن نہ لینے کی وجہ سے مایوس ہو گیا تھا یعنی حکومت ایران پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ فتویٰ کو منسوخ کر دے۔اس نے محسوس کیا کہ اب کوئی چارہ نہ رہ گیا تھا ماسوا اس کے کہ وہ کھلے بندوں سامنے آجائے اور ذاتی طور پر اسلامی دنیا کے ساتھ سمجھوتہ کی کوشش کرے۔اس نے اپنی غیر اسلامی تربیت کے بارہ میں کمزور تو جیہات پیش کرنی 164