سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 163
کہتا ہے کہ : " پیغمبر تمام مخلوق میں سے ایک ایسی مخلوق تھے جس کا روپ اختیار کر نیکی اجازت خدا شیطان کو نہیں دیتا۔اس لئے جب خواب میں انسان کو پیغمبر نظر آئیں تو ہمیں یقین ہوتا ہے کہ یہ خواب ضرور بالضرور سچا ہو گا "۔پروفیسرز کی رشدی کے ناول کے عنوان کے انتخاب پر ایک اور دلچسپ نقطہ پیش کرتا ہے جس سے رشدی کا فریب فاش ہو جاتا ہے: "رشدی نے اس شیطان کے نام کو استعمال کیا جو دھوکہ بازی کا ذمہ دار تھا۔اس کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ پورے کا پورا قرآن من گھڑت ہے اور محمد ایک دغا بازمفتری۔یہ صرف دو آیات کا سوال نہیں جو پیش کی گئیں بلکہ تمام کی تمام 6236 آیات کا جن پر قرآن مشتمل ہے۔دوسرے لفظوں میں اس کا عنوان ذومعنی تھا " ( یعقوب ذکی جس کا سابقہ نام جیمز ڈ کی (James Dickie ) تھا وہ برطانوی مسلمان، مصنف اور ہارورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ہے)۔رشدی بیان دیتا ہے رشدی کے بددلی سے دئے ہوئے بیان سے یہ صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ جو اس کا مقصود تھا اس کے حاصل کرنے میں اس کا حیلہ بہانہ کام کر گیا۔اس کے بیان کا کھوکھلا اور منافقانہ لہجہ بھی غور کرنے کے قابل ہے جس کا پورا متن درج ذیل ہے : " دی سٹینک ورسز کے مصنف کی حیثیت سے میں اس بات سے بخوبی واقف ہوں دنیا کے کثیر ممالک میں مسلمان اس ناول کی اشاعت سے دیگیر ہوئے ہیں۔میں اسلام کے مخلص ماننے والوں سے صمیم قلب سے معذرت خواہ ہوں جو دل آزاری ان کو اس کتاب کی اشاعت سے ہوئی ہے۔یہ دنیا جس میں ہم رہ رہے ہیں جو متعدد مذاہب پر مشتمل ہے یہ تجربہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے۔(1989 20 The Times, February ) یہ بیان اس نے کچھ روز بعد دیا تھا جبکہ اس سے چند روز قبل اس نے درج ذیل بیان دیا تھا : " دل لگتی بات یہ ہے کہ کاش میں نے اس سے زیادہ تنقیدی کتاب لکھی ہوتی۔۔۔ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی بنیاد پرستی اس وقت تھوڑی سی تنقید سہہ سکتی ہے"۔(The Washington Times, February 15, 1989) 163)