سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 155
سولہواں باب رشدی کو دیوتا بنا دیا گیا ادبی دنیا نے فتوی کی مذمت اور رشدی کی حمایت میں اتحاد کا نمونہ پیش کیا ہے۔لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کیلئے حالات نا قابل برداشت بنانے کیلئے اور ان کے زخموں پر نمک چھڑ کنے کیلئے وہ اس تگ و دو میں لگے ہوئے تھے کہ رشدی کو ہیرو بنا دیا جائے یا اسے ادبی دیوتا کے روپ میں پیش کیا جائے۔طرفہ یہ کہ انہوں نے مغرب کا سب سے بڑا ادبی انعام بھی اسے نوازا۔اس نے 23 بکر ایوارڈ (Booker Award) جیتنے والوں کو مات کر دیا جب اُس نے 1981ء میں لکھے جانے والے اپنے ناول Midnight's Children پر سب سے پہلا بکر آف بکرز ایوارڈ 20 ستمبر 1993ء کو حاصل کیا۔اس ایوراڈ کو حق بجانب ثابت کرنے کیلئے دی ٹائمنز نے 21 ستمبر 1993ء کے اداریہ میں لکھا: " سلمان رشدی کے ناول مڈ نائٹس چلڈرن کو بکر آف بکرز ایوارڈ کا دیا جانا افسانہ نگاری کے اس گراں قدر ناول کا منصفانہ اعتراف ہے۔مزید برآں یہ کہ (ایوارڈ ) عقوبت زدہ ناول نگار کو رشدی افئیر اور The Stanic Verses کے منحوس سایہ سے نجات دلا دے گا"۔یہ انعام اس کو اس لئے دیا گیا کہ اسے بھینٹ کا بکرا بنایا گیا اس نے بنیاد پرستوں کو للکارا اور اپنے نظریات کو شدت سے گلے لگائے رکھا۔تاہم حقائق اس کے برعکس ہیں۔رشدی نے محسوس کیا کہ بہت سارے لوگوں نے اس کو دھو کہ دیا جنہوں نے اس کو بہت کچھ دینے کا وعدہ کیا تھا۔لیکن ہوا یہ کہ وہ کا سہ گدائی ہاتھ میں لے کر ہر کس و ناکس کے پاس گیا کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالیں کہ فتویٰ منسوخ کر دیا جائے۔دباؤ کی یہ تحریک امریکہ تک پہنچ گئی۔مشہور امریکی را ئیٹر نارمن میلر (Norman Mailer) اور آرتھر ملر (Arthur Miller) نے امریکن صدر بل کلنٹن کو قائل کیا کہ وہ سلمان رشدی سے ملاقات کرے۔155