سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 9
تعارف جب سلمان رشدی نے اپنا نام نہاد ناول 1988 ء میں شائع کیا تو اس سے دنیا بھر میں ایسی نزاعی بحث چھڑ گئی جس کی مثال ملنا محال ہے۔اس ناول میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا تھا ان کے خلاف لوگ گلیوں میں دیوانہ وار نکل آئے، جلوس نکالے گئے۔ناول کے مضامین سے عوام الناس میں جس قسم کے شدید رد عمل کا اظہار ہوا ، اس کے پیش نظر بعض مظاہرے اشتعال انگیزی پر منتج ہوئے جس سے متعدد لوگ یا تو زخمی ہوئے یا پھر ہلاک ہو گئے۔دنیا بھر کے مسلمان ممالک نے اس ناول کی اشاعت کو مذموم قرار دیا اور ایران کے آیت اللہ خمینی نے رسوائے زمانہ فتویٰ جاری کیا، جس سے مغربی اقوام کا رد عمل شدید مخالفت اختیار کر گیا۔انہوں نے اس کتاب کی تائید میں ایٹری چوٹی کا زور لگا دیا۔اس سے ملتا جلتا رد عمل برطانیہ میں ہوا جہاں یہ کتاب شائع ہوئی تھی۔برطانوی انتظامیہ نے یہ کہہ کر لا چاری کا اظہار کر دیا کہ انہوں نے آزادی تقریر کے حق کا بہر صورت تحفظ کرنا ہے۔یوں اس بودی دلیل کی آڑ میں انہوں نے "Spy catcher" والے سیکنڈل کو بڑی آسانی سے نظر انداز کر دیا اور بعد ازاں برطانیہ میں مخش چینل والے ٹیلی ویژن کی آنے والی سٹیلائٹ ٹراسمشن پر بابندی عائد کردی۔جہاں تک برطانوی انتظامیہ کا تعلق ہے یوں لگتا ہے کہ ائیر ویوز پرخش زبان کی ٹرانسمشن سے اس کے مقدس اصول آزادی تقریر کی خلاف ورزی ہوتی تھی لیکن نخش زبان کی اشاعت جس کا واحد مقصد معزز ہستیوں کے خالص کیریکٹر پر گند اچھالنا تھا ، جس سے ہزاروں شہریوں کے دل دکھے، ان کو آزردہ خاطر کرنے سے کوئی حق تلفی نہ ہوئی۔پھر زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ، اس ناول کو ادب کا بہترین نمونہ قرار دے کر اس کی منادی کی گئی ، بلکہ اس کو مشہور زمانہ بکر ایوارڈ (Booker Award) کے لئے نامزد کیا گیا۔مصنف کا استقبال ہیرو کے طور پر کیا گیا، اور اس کی رسوائے زمانہ کتاب میں سے اقتباسات 9