سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 84
عقائد کے پر چار کے ذریعہ پھیلتی رہی۔ایک یہ کہ نجات ملنا صرف اور صرف یسوع مسیح کے ذریعہ ہی ممکن تھا اور دوسرے یہ کہ عیسائیت دوسرے تمام مذاہب پر فوقیت رکھنے والا عقیدہ تھا۔اب معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی بے نظیر اشاعت کے بعد سے خصوصاً یورپ کے عیسائی بیدار ہو گئے ہیں اور اس بات کا نوٹس لے رہے ہیں کہ ان کے عالمی غلبہ کے منصو بہ کو اسلام سے حقیقی خطرہ ہے۔اب مسلمانوں کی باری ہے کہ وہ تبلیغ کریں کہ صرف اسلام ہی صراط مستقیم کی طرف کچی روشنی ہے۔بلا شبہ اب اسلام کا پلڑا بھاری ہوگا۔اس مسئلہ کو جو عیسائی اقوام کیلئے یقیناً مصیبت بن چکا ہے کنٹرول کرنے کیلئے انہوں نے اس رائے کو پورے زور کیسا تھ آگے بڑھایا کہ متحدہ عالمی کلچر ابھر رہا ہے۔لہذا تمام مذاہب اس بات کا اعلان کریں کہ بہر کیف وہ سب کم و بیش ایک ہی چیز کیلئے کوشاں ہیں۔اس قسم کا طرز خیال کسی بھی مذہب کے پیروکاروں کیلئے خود کو دوسرے مذاہب سے برتر سمجھنے کیلئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑے گا۔عیسائی اقوام کیلئے تو یہ عمل ذلت کے ساتھ ہتھیار ڈال دینے کے مصداق تھا۔یہاں تک کہ واٹ بھی اپنی کتاب محمد ایٹ مدینہ میں بڑا دلچسپ اور قابل ذکر تبصرہ کرتا ہے: "ہماری دنیاروز بروز اون ورلڈا بنتی جارہی ہے اور اس ایک دنیا میں یگانگت اور مماثلت کا رجحان پایا جاتا ہے۔اس رجحان کی بناء پر وہ دن بلا شبہ ضرور طلوع ہوگا جب یکساں اخلاقی اصولوں کا ایک مجموعہ ہوگا جو نہ صرف افادیت میں آفاقی ہونے کا دعویٰ کرے بلکہ حقیقتا تمام دنیا میں تقریباً آفاقی سطح پر قبول کر لیا جائیگا۔مسلمان دعوی کرتے ہیں کہ محمد کردار اور اخلاق میں بنی نوع انسان کیلئے بہترین نمونہ ہے اسطرح کہنے سے وہ عالمی رائے عامہ کو دعوت دیتے ہیں کہ محمد کے بارہ میں اپنی رائے دیں۔اب تک اس امر پر کم ہی عالمی رائے دی گئی ہے لیکن اسلام کی خوبیوں کی وجہ سے اس پر آخر کار سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔"(صفحہ 333) امر واقعہ یہ ہے کہ محمد ﷺ کے کردار اور مذہب اسلام کو لوگ کافی توجہ دیتے آئے ہیں بالخصوص گذشتہ صدی کے دوران۔اور یہ کہ اس بات پر سنجیدگی سے غور کیا جاتا رہا ہے۔تسلیم کہ یہ الله سب کچھ ہوالیکن غلط مقاصد کی خاطر۔84