سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 77 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 77

خداؤں کی پوجا کرتے ہیں۔(4116 & 4:171:73)۔۔۔(صفحہ 83) منٹگمری واٹ کی کوئی کتاب اس وقت تک مکمل خیال نہیں کی جاسکتی جب تک وہ عادت سے مجبور ہوکر سرور کائنات ﷺ کے کردار پر حملہ نہ کر لے۔اور وہ کسی مغربی قاری کو مایوس نہیں کرتا جب وہ لکھتا ہے : "محمد کو کامل مثالی نمونہ بنا لینے ، اور ابتدائی اسلامی سوسائٹی کی سچائی کے بارہ میں شک پایا جاتا ہے۔لازماً محمد نے عالم جوانی میں اہل مکہ کے غیر اسلامی نظریات میں سے کچھ حصہ ضرور پایا ہوگا"۔(صفحہ 86) حضرت محمد مصطفی عملے کو ایک ایسا شخص بنا کر پیش کیا گیا جو کڑے حالات میں اپنے وعدہ کا پاس نہ کرتا تھا۔مثلاً محمد ایٹ مدینہ کتاب میں واٹ لکھتا ہے : " یہ یقیناً مقدس مہینہ تھا جس میں خوں ریزی سے اجتناب ضروری تھا لیکن خود محمد نے مقدس ایام پر خصوصاً عمل نہ کیا " (صفحہ 47)۔واٹ اپنی تمام کتب میں مسلسل اس بات پر زور دیتا ہے کہ محمد جارح تھے۔انہوں نے اپنے دین کو طاقت اور تلوار کے ذریعہ پھیلایا۔وہ آگے جا کر اسی کتاب میں لکھتا ہے : " بعض اوقات محمد نے چست و چو بند آدمیوں کو اکسایا کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے خلاف طاقت استعمال کریں۔ان ہی میں سے ایک از دشا نوعہ کے قبیلہ کا سراد بن عبد اللہ تھا جو محمد کے پاس تقریباً بارہ افراد کے ساتھ آیا۔محمد نے اسے ان آدمیوں پر لیڈر مقرر کر دیا۔اور انہیں کھلی چھٹی دے دی کہ اسلام کے نام پر اس علاقہ کے کسی بھی غیر مسلم سے خوں ریزی کریں۔"(صفحہ 120) گزشتہ چند دہائیوں میں واٹ یقیناً مغرب کا ایک با عزم عالم چلا آ رہا ہے اور ایک سے زیادہ ذرائع ابلاغ میں اظہار رائے کے مواقع میسر آئے ہیں جن سے وہ تھک چکا ہے۔جیسا کہ وہ اپنی کتاب امحمد ایٹ مدینہ میں کھلے بندوں اعتراف کرتا ہے : میں نے محمد کے بارہ میں جو کچھ کہنا تھاوہ کہ لیا ہے اگر میں اس سے زیادہ کہوں گا تو ممکن ہے کہ میں نے جو اچھا تاثر دینے کی کوشش کی ہے اس کے زائل ہونے کا احتمال پیدا ہو جائے۔" شاید ہمیں واٹ کی سرزنش پر ممنون ہونا چاہئے۔اگر آجنگ اس نے اپنی کتب لکھ کر حضرت محمد ﷺ کا اچھا تاثر قائم کرنیکی کوشش کی ہے تو میں یہ سوچ کر ہی کانپ جاتا ہوں کہ اگر وہ محمد ے کے کردار کو آلودہ کرنے کا قصد کر لیتا تو کیسے بھیانک نتائج مرتب ہوتے۔صل الله 77