سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 76 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 76

کی کوشش کی ہے۔منٹگمری واٹ نے جو کچھ لکھا ہے وہ اس سے پہلے مغربی سکالرز کے پیش کردہ مواد کے مقابلہ میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس نے اسے کس طور پر پیش کیا ہے۔بالکل اسی طرح جیسا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا: " بہکانے کے نئے نئے نسخے اور گمراہ کرنے کی جدید جدید صورتیں تراشی جاتی ہیں " فتح اسلام صفحہ 3 )۔سر میملٹن گب (Sir Hamilton Gibb) نے ایک رسالہ ہبرٹ جرنل Hibbert Journal میں واٹ کی کتاب Mohammad at Mecca پر غیر دانستہ طور پر نقد و نظر کرتے ہوئے کہا تھا: " یہ کتاب تاثر دیتی ہے کہ جیسے یہ کسی ایسے شخص نے لکھی ہے جو تخیل میں خود انہیں حالات سے گزر رہا ہو جن حالات سے محمد کو مکہ میں دو چار ہونا پڑا۔اس جہت میں وہ گذشتہ سوانح نگاروں پر فوقیت لے گیا ہے۔" یہی امر اس بنیادی مسئلہ کی وجہ اور فساد کی جڑ رہا ہے۔مستشرقین خصوصاً مغرب میں رہنے والوں نے اپنے تخیل کو بے لگام چھوڑ دیا ہے اور اپنے دلائل کی بنیاد شنید پر رکھی ہے۔انہوں نے حقائق کو اپنا مقصد حاصل کرنے کیلئے توڑ مروڑ دیا ہے۔حضرت محمد ﷺ کے کردار کو اسطرح تشکیل دیا ہے کہ وہ ان کے جذبات ، طرز خیال اور مضحکہ خیز تصورات کے عین مطابق ہو۔مثال کے طور پر میں بعض مخصوص فرضی صورتیں پیش کروں گا۔واٹ نے اپنی کتاب Islamic Fundamentalism & Modernity میں اسلامی روایت کے مطابق قرآن کے بارہ میں شک کا اظہار کیا ہے کہ آیا یہ کلام الہی ہے؟ وہ اس کی وحی میں انسانی عصر کے شامل ہونے" کی بات کرتا ہے۔مجھے یقین ہے کہ قاری دیکھ لے گا کہ اس دعوی کا کئی بار دوسرے مغربی سکالرز نے بھی اعادہ کیا ہے۔واٹ قرآن پاک میں مذکور تاریخی حقائق کے بیان میں ”غلطیوں کی نشاہدہی کرتا ہے جیسے : مریم جو عیسی کی والدہ تھیں، اس کو مریم جو ہارون کی بہن تھی " (28:19) کہہ کر بظاہر خلط ملط کر دیا گیا۔دونوں کو عربی میں مریم کہا جاتا ہے۔اس سے اہم بات یہ ہے کہ عیسی کو صلیب پر چڑھایا گیا اور وہ صلیب پر ہی فوت ہوئے (4:157) دونوں کا انکار کیا گیا ہے۔اور یہ دعویٰ کہ عیسائی تین 76