سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 67
کتاب ”فتح اسلام میں مغربی سکالرز کے تعصب کے متعلق مسلمانوں کو قبل از وقت یہ کہ کر متنبہ کر دیا تھا کہ مغربی اقوام فریب کاری اور دھوکہ بازی کے ذرائع کو استعمال میں لا کر اپنے جھوٹوں اور جعلسازیوں سے عوام کو گمراہ کریں گی۔روڈنسن نے آخری دو پیراگراف میں رسول اکرم علی کی زندگی کا خاکہ بیان کرتے ہوئے جو زبان استعمال کی ہے، اس کے ذو معنی الفاظ پر ذرا غور کریں: تصویر چنداں سادہ نہیں ہے، یہ کوئی شیطانی عجیب الخلقت چیز بھی نہیں نہ ہی سردخون والا جعلساز ، نہ ہی سیاسی نظریہ پیش کرنے والا اور نہ ہی عارف جو کلیتا خدا سے لو لگاتا ہو۔اگر ہم نے اسکو درست طریق سے پہچان لیا ہے تو محمد ایک پیچیدہ انسان تھا، تضادات سے بھر پور۔وہ عیاشیوں کا رسیا تھا لیکن زہد و تقاء میں ڈوبا ہوا۔وہ اکثر رحمدل لیکن بعض دفعہ ظالم بھی تھا۔بعض دفعہ وہ نرم مزاج اور کبھی نروس ہوتا تھا۔بہادر اور بزدل، فریب اور صاف گوئی کا امتزاج ، در گذر کرنے والا اور بیک وقت زبردست کینہ پروری کا حامل، فخر کر نیوالا اور عاجزی کا سراپا، پاکباز اور شہوانی خواہشوں کا مالک، ذہین اور بعض معاملات میں بے وقوف اور نجمی انسان تھا"۔(صفحہ 313) مستشرقین کا جنتر منتر کھل کر سامنے آ گیا ہے اور یہی وہ طلسم ہے جس نے محمد (صلعم) میں مزعومہ نقائص کو نمایاں کیا ہے جو مفروضہ طور پر شیطانی اثر و رسوخ ان کے ذہن میں داخل کر نیکا ذمہ دار ہے، جسطرح وہ ایک عام بشر کے ذہن میں داخل کرتے ہیں۔یہ میکسم روڈ نسن کا یکطرفہ فیصلہ ہے اور اس کے اختتامی پیرا گراف میں اس نے جو مطلب نکالا ہے وہ بھی انتہائی جھوٹی فروتنی مگر اپنی بڑائی کے الفاظ میں ختم ہوتا ہے: "کیا ہمیں ان پیچیدگیوں اور تضادوں پر تعجب کا اظہار کرنا چاہیے ؟ یہ جوخو بیوں اور خامیوں کا امتزاج تھا۔وہ بہر حال دوسرے انسانوں کی طرح محض انسان تھا انہی بشری خامیوں کے زیر بار اور اسی قسم کی صلاحتیوں کا مالک، محمد ابن عبداللہ قریش کے قبیلہ کا ، ہمارا بھائی"۔(صفحہ 313) واہ بلا شبہ کیسا بھائی ہے، جس شخص کو میکسم روڈ نسن جیسا بھائی مل جائے اسے کسی دشمن کی کیا ضرورت ہے؟ 67