سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 66 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 66

دیتا ہے۔وہ عبرانی کے جرمن سکالر تھیوڈور نو لڈک (Theodore Noldeke) کا سرگرم پیروکار نظر آتا ہے " جس نے قرآن پاک کے سٹائیل کی خامیوں پر تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا ہے "(صفحہ 93)۔اس نے مزید مطلب نکالا کہ قرآن پر رسول پاک (صلعم) کی ہدایت پر نظر ثانی کی گئی تھی اور عیسائی عقلیت پسندوں کے نقطہ نظر کو پیش کرتا ہے کہ " محمد کذب و افتراء کے قصور وار تھے انہوں نے دیدہ و دانستہ اپنے خیالات اور نظریات کو اللہ کے نام سے منسوب کر دیا" (صفحہ 218) اور یہ کہ انہوں نے "راستی کو کھینچ تان دیا"۔(صفحہ 78) یہ چیز مزعومہ طور پر بعض آیات میں شیطانی اثرات کا موجب بن گئی ، جیسا کہ روڈنسن لکھتا ہے : " غیر مسلموں کو صاف نظر آ جاتا ہے کہ محمد نے جو الفاظ سنے تھے اور جو ان پر ہو بیتی (جس کا اظہارالفاظ میں بالکل ناممکن تھا) وہ کس طرح معجزانہ طور پر صحیح الفاظ کے روپ میں ڈھل گئے۔شاید وہ الفاظ ان کو ان کے نیم شعور نے لکھوائے تھے۔اس پر ان کو خود بھی شک تھا بلکہ انہوں نے ان کے منبع پر شک کا اظہار کیا تھا۔وہ اس وسوسہ سے لاحق تھا کہ انسانی وجدان نے شاید اس کا کچھ حصہ لکھا تھا اور جیسا کہ ہم نے دیکھا انہوں نے بعد میں ایک مرحلہ پر اس امر کا اعتراف کیا کہ اس میں شیطان اپنی ہدایات و احکامات شامل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔(صفحہ 219) روڈنسن نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنی کتاب میں محمد (صلعم) کا جائزہ خالصتاً ایک غیر جانبدارانہ نقطہ نظر سے پیش کیا ہے لیکن کتاب لکھنے کی وجوہات کتاب کے پیش لفظ اور تمہ میں ظاہر ہوگئی ہیں۔پیش لفظ میں وہ کتاب لکھنے کا ایک قسم کا جواز پیش کرتا ہے جبکہ ایسی کئی کتب اس سے پہلے محمد ﷺ کے بارہ میں لکھی جاچکی ہیں، خصوصاً حال ہی میں لکھی جانے والی۔یقینا وجہ یہ ہے کہ اسلام پر مستقل اور مسلسل یلغار نے دوام کا رنگ اختیار کر لیا ہے۔ان یلغاروں نے کسی نہ کسی رنگ میں جاری رہنا تھا، اس سے زیادہ اچھا طریقہ کیا ہو سکتا ہے کہ اسلام کے نبی پاک ﷺ کے نقائص بیان کئے جائیں اور من مرضی سے انہیں جو چاہیں بنالیں ، اور انہیں صرف اصلی روشنی سے کم روشنی میں ہی نہیں پیش کریں بلکہ انہیں گستاخ اور حقارت آمیز زبان میں بیان کیا جائے۔کتاب کے اختتام کے قریب وہ پاؤں جما کر اپنی اصل خصلت کو ظاہر کرتا ہے جب وہ آنحضور ﷺ کے کردار کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی 66