سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 52 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 52

دورخ سمجھتے ہیں۔اس سے پہلے اور اب بھی مغربی مشنریوں کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ وہ ثقافتی باڑوں میں مل جل کر رہنے کو پسند کرتے ہیں۔جس ملک میں وہ رہائش پذیر ہوتے ہیں اس کی تہذیب کو فی الواقعہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے جیسا کہ ڈاکٹر علی نے کھلے بندوں اعتراف کیا ہے۔کم از کم اسے تو معلوم ہونا چاہئے کیونکہ وہ خود ایک عیسائی مشنری ہے جس نے اپنے کیرئیر کی ابتداء ایک مسلمان ملک میں کی تھی۔وہ کہتا ہے "اگر چہ وہ (عیسائی مشنری ) ایک مسلمان ملک میں رہائش رکھتے ہیں لیکن وہ اس قسم کا رویہ اپنائے رکھتے ہیں گویاوہ ابھی تک مغربی یورپ یا شمالی امریکہ میں رہ رہے ہوں"۔(154 Islam, A Christian Perspective, page ) ڈاکٹر علی مزید اعتراف کرتا ہے مغرب نے سامراجیت کے ذریعہ جو تسلط اور کا لونیل استحصال کیا ہے تاریخ اس کی شاہد ہے )" (صفحہ 155) یہ دلیل اور بھی وزنی ہو جاتی ہے کیونکہ یہ ایک عیسائی مشنری کے قلم سے نکلی ہے جو ایک ایسے ملک میں پیدا ہوا جس پر اہل مغرب کا گہرا اثر و رسوخ تھا اور انہیں کے تبلیغی مشن کی پیداوار ہے۔ڈاکٹر علی مزید کہتا ہے : " اس نکتہ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ تارکین وطن کو کسی ملک کے غریب ترین طبقہ کے ساتھ مل بیٹھنا ان کے کام کا حصہ تو بنایا جا سکتا ہے لیکن اسے کسی لحاظ سے بھی مقامی تہذیب کے ساتھ یکسانیت کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہئے۔یہ مفروضہ بذات خود گستاخی کی نشاندہی کرتا ہے جس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ مشنری تہذیب ہی ہمیشہ برتر ہوتی ہے اور یہ کہ مہمان تہذیب کے ساتھ یکسانیت پیدا کرنے سے احساس محرومی پیدا ہوتا ہے۔تاہم کئی ایک مشنری ملک کی مقامی زبان کا سطحی علم رکھنے سے آگے نہیں جاتے جس میں وہ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں جس کی خدمت کے لئے انہیں بلایا گیا تھا۔انہیں اس ملک کے علم فنون، موسیقی اور علم ادب کی کوئی شدھ بدھ نہیں ہوتی"۔(صفحہ 156) ڈاکٹر علی قوم پرست عیسائیت کی ایک قسم، جو اپنی فطرت میں ہی اپنے اندر جھانکنے والی اور جاہلیت پر مبنی ہے ، اس سے پیدا ہونے والے حقیقی خطرات سے بخوبی آگاہ ہے۔کیا یہ موازنہ حیران کن نہیں ہے؟ جب مغربی طاقتیں دوسرے ممالک میں جا کر بس گئیں جس میں مسلمان 52