سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 51
مسلمان رہنا پسند کرتے ہیں۔یہ وہ دکھتی رگ ہے جو مغربی عیسائیوں کے احساسات کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔وہ مسلمانوں کے روحانی اقدار سے دلی لگاؤ کو جو آجکل مغرب میں نہ ہونے کے برابر ہے ایک گہری حسد کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔وہ لوگ جو مسلمانوں کے خلاف ایسے خیالات اپنے دل میں رکھتے ہیں ان کیلئے بہتر ہوگا کہ وہ رائے ہیٹرس لی (Roy Hattersley ) کے اس تبصرہ سے استفادہ کریں۔رائے ہیٹرس کی ایک مقبول عام، برطانوی پارلیمنٹ کا باعزت رکن ہے۔اس نے سنڈے ٹائمنر ( 16 جون 1993 میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں اس نے ونسٹن چرچل کے برطانیہ میں مختلف نسلوں کے امتزاج کے بارہ میں نظریات کو چیلنج کرتے ہوئے درج ذیل رائے پر اپنے مضمون کو ختم کیا : " ایک بات تو یقینی ہے مسلمان اب برطانیہ میں ہی مقیم رہیں گے، وہ یہاں رہیں گے اور استقامت کے ساتھ اسلامی روایات اور رجحانات کے ساتھ رہیں گے۔وہ برطانیہ کی لادین سوسائٹی میں گھل مل نہیں جائیں گے اور نہ ہی دوسروں سے مطابقت پیدا کرنے کی خاطر جعلی پردہ کے پیچھے چھپ جائیں گے۔یا تو ہم ان کی خوبیوں کو سراہ سکتے ہیں ان کی اچھائیوں پر مزید کام کر سکتے ہیں، ان کے ساتھ اختلافات کو تسلیم کر سکتے ہیں ، یا پھر ہم شک و شبہ والا ، خوفزدہ اور بے ذائقہ ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔عام سوجھ بوجھ اور ہمدردی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اختلافات کو قبول کرتے ہوئے شادمانی کے ساتھ زندگی بسر کریں۔" ایک موازنہ آئیے اب ہم تصویر کے دوسرے رخ کو لیں اور اہلِ مغرب کے کردار پر طائرانہ نظر ڈالیں کہ وہ خود کس حد تک ان ممالک کے رسوم اور اعتقادات کو اپنا سکے جن پر وہ حکومت کرنے گئے اور حکومت کی۔علی الخصوص اس میں عیسائی پادریوں کا کردار کیسا تھا؟۔مغربی پادری مسلمان ممالک میں بادشاہتوں کی چھتری تلے حفاظت پا کر داخل ہوئے۔ابتداء میں یہ طریقہ ان کے لئے بہت سودمند ثابت ہوا اور اسلامی ممالک میں مشن قائم ہو گئے۔تاہم موجودہ حالات میں یہ طریقہ بوجھ ثابت ہو رہا ہے کیونکہ اکثر مغربی مشنریوں اور مور د نفرت مغربی سامراجیت کو لوگ ایک ہی سکے کے 51