سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 41 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 41

مندرجہ بالا آیات کریمہ میں بتلایا گیا ہے کہ اپنی رنگ برنگی تاریخ میں عیسائی اقوام اپنی طاقت میں ایک بار پھر اعلیٰ مقام تک پہنچ جائینگی۔اس کی ابتدا ء سترھویں صدی کی صبح طلوع ہونے سے ہوئی جب یورپ کی اقوام نے عظیم الشان ترقیات حاصل کرنا شروع کیں۔انہوں نے بے مثال طاقت اور شہرت حاصل کر لی جو انیسویں صدی میں اپنے عروج کو پہنچ گئی۔اپنی مادی ترقی پر فخر کرتے ہوئے مغربی عیسائی اقوام کی زندگی آرام و آسائش اور عیش و عشرت والی ہو گئی اور اپنے غرور اور گستاخانہ رویہ کی وجہ سے انہیں غلط فہمی ہو گئی کہ ان کی طاقت، مادی ترقی اور بہبودیت ہمیشہ قائم و دائم رہے گی۔وہ اپنے غلط احساس حفاظت اور اطمینان سے عارضی سکون حاصل کر کے مکمل طور پر گناہ اور بے انصافی کی زندگی میں روپوش ہو کر رہ جائیں گے۔یہ سب کچھ عجب رنگ میں لفظ یہ لفظ یح ثابت ہو رہا ہے۔برتر مغربی تہذیب اب ہم کالونیوں کی رعایا کو محکوم بنانے کی طرف لوٹتے ہیں۔محکوموں کے سامنے یہ لالچ رکھی جاتی رہی کہ وہ مفروضہ برتر مغربی تہذیب، نظام تعلیم اور عمومی طرز حیات کے پھلوں کا مزہ لے سکتے ہیں مگر اس کے ساتھ محکوموں کو اتنی دور رکھا جاتا کہ وہ مزید مزا حاصل کرنے کیلئے واپس ان کے پاس آتے رہیں۔لیکن انہیں کبھی جی بھر کر مزہ لینے کی اجازت نہ دی جاتی تھی۔مغربی طرز کی جو تعلیم مہیا کی جاتی تھی اسے اکثر مقامی لوگ پسند کرتے تھے، جن میں بہت سارے مسلمان بھی شامل تھے۔لیکن عیسائیت قبول کرنے کا دباؤ ہمیشہ موجود ہوتا تھا۔حتی کہ میڈیسن کے میدان میں ہسپتال اور میڈیکل کلینک قائم کر دئے جاتے ، وہاں سے بعض جگہوں سے رپورٹ ملی ہیں کہ علاج کی شرط یہ تھی کہ مریض ان کی عبادت میں شامل ہوں گے یا پھر وعظ کو ہی سنیں گے۔ہندوستان میں ہندؤں اور افریقہ میں قدیم دور کے لوگوں کی ایک بھاری تعداد کو مادی ضروریات سے مجبور ہو کر عیسائیت کو قبول کرنا پڑا۔تاہم مسلمانوں میں سے مذہب تبدیل کرنے والوں کی تعداد بہت کم تھی شاید اس لئے کہ عین اس وقت مغربی علماء دین نے اسلام کی مسخ شدہ 41