سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 36 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 36

عیسائیت اور شمالی افریقہ کے عظیم چرچ کو زیرنگیں کر لیا۔یہ درخشندہ کامیابی بہت خطرناک تھی۔کیا خدا نے عیسائیوں سے منہ موڑ لیا تھا اور منکرین کو اپنی نظر کرم کا مورد بنا لیا تھا۔؟ جب یورپ تاریکی کے دور ( ڈارک ایجز ) سے باہر نکل آیا اور اپنی عظیم تہذیب قائم کر چکا تو پھر بھی اسلام کی بڑھتی ہوئی اسلامی سلطنت کا خوف انہیں لاحق رہا۔یورپ اس طاقتور اور اثر آفریں تہذیب پر اپنا کوئی خاص اثر نہ جما سکا۔اس خوف کیوجہ سے مغربی عیسائیوں کے لئے ناممکن ہو گیا کہ وہ مذہب اسلام کے بارہ میں منطقی اور حقیقت پسندرہ سکیں مغربی سکالروں نے اسلام کو خدا کی شان میں گستاخی کرنے والا مذہب کہا اور پیغمبر اسلام کو عظیم متنیتی کے طور پر پیش کر کے ان کی مذمت کی جس نے ایک اشتعال انگیز مذہب کی بنیاد رکھی تا وہ تلوار کے بل بوتے پر پوری دنیا کو فتح کرلے۔اہل مغرب کے لئے محمد ایک خوفناک بھوت بن گیا جس کا ذکر مائیں نافرمان بچوں کو ڈرانے کیلئے کرتیں۔یورپ نے اسلام کا یہ مسخ شدہ تصور قبول کر لیا۔اور آج بھی اسلام کے بارہ میں ہمارے خیالات کو متاثر کرتا چلا آتا ہے۔II (Armstrong, Muhammad, A Western attemp to Understand Islam, pp 10,11) مغربی مصنفین کی اکثر و بیشتر تحریریں جو سپر د قلم کی گئی ہیں ، وہ رسول مقبول ﷺ اور دوسری برگزیدہ شخصیات کے بارہ میں ان کی قدر و قیمت کم کرنے والی اور ان کی آبرو ا چھالنے والی ہیں۔اسلام کے بارہ میں عوام الناس میں پائے جانیوالی غلط فہمیوں کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اسلام کے بارہ میں غلط معلومات رکھتے ہیں۔منٹگمری واٹ نے دیانتداری سے کام لیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اسلام کی خوبیوں اور خصائل کی اچھی طرح تشہیر نہیں کی گئی کہ جس سے اس کا مسخ شدہ پر تو بدلا جا سکے۔" کئی عیسائی صلاح الدین کی شریف النفس سرداروں جیسی بردباری کا اعتراف کرنے لگے لیکن اس موضوع پر بہت کم عالمانہ کام ہوا ہے۔یہ فرانس اور مغربی یورپ کے سکالر ہی تھے جنہوں نے اسلام کا نیا اور تفصیلی تصور قائم کیا" (Watt, M۔C۔Encounters, pp 80/81) اسلام کا یہ نیا اورتفصیلی عکس در حقیقت ایسے پیچیدہ اور مسخ شدہ طریق سے پیش کیا گیا تا کہ اسلام کی تمام خوبیوں کی نفی ہو سکے۔اب میں ازمنہ وسطیٰ کے دور سے شروع کر کے یورپ کے بعض ایسے ہی مصنفین کا جائزہ پیش کروں گا۔36