سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 23
باب دوم صلیبی جنگیں سلمان رشدی کی رسوائے زمانہ کتاب دی سیٹنگ ورسز The Satanic) (Verses کے پس پردہ جو مسموم کج فکری پائی جاتی ہے اس کا پتہ لگانے کے لئے ہمیں ماضی کی طرف رخ کرنا ہو گا۔بالکل اس دور تک جب عہد وسطیٰ میں اسلام پر صلیبی جنگوں کے حملے ہور ہے تھے جس سے مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین پہلی مرتبہ حقیقی اور اصلی تصادم وقوع پذیر ہوا۔مسلمانوں نے یورپ کے کئی ممالک پر قبضے کرنے شروع کر دئے تھے اور یہ کہنا بجا ہوگا کہ اہل یورپ عرب کلچر، فلسفہ، سائنس اور میڈیسن کے علاوہ اسلام کی اقتصادی اور عسکری طاقت کی مدح سرائی کر رہے تھے " Hans Kung, Christianity and the World) 20 Religions, p کئی عیسائیوں نے بشمول ان کے حکمرانوں کے مسلمانوں کی رسوم کو اپنانا شروع کر دیا تھا۔بلکہ کئی ایک تو مشرف بہ اسلام ہونا شروع ہو گئے تھے۔مغربی مورخین نے اس دور کو مسلم کا لونیلزم ( توسیع نو آبادیات) کا نام دیا ہے۔وہ جو مرضی کہہ لیں لیکن اس حقیقت سے فرار نہیں کہ یہ تاریخ کا ایک ایسا دور تھا جسے مغربی مؤرخین نے بھی مذہبی رواداری کا دور قرار دیا ہے۔جس میں یہودیوں اور عیسائیوں کو حق حاصل تھا کہ وہ ایک محفوظ اقلیت بن جائیں اور امن و امان سے بلاخوف زندگی گزارتے ہوئے اپنے مذہب کی پیروی کرتے چلے جائیں۔ہانس کنگ مسلمانوں کی اس رواداری کو تسلیم کرتا اور اس کا عیسائیت سے ان الفاظ میں موازنہ کرتا ہے: ازمنہ وسطی کی اسلامی دنیا میں یہودی اور عیسائی اپنے مذہب کی زیادہ آزادی سے پیروی کر سکتے تھے یہ نسبت آجکل کے جابرانہ حکومتوں کے ممالک میں۔ازمنہ وسطی کے عیسائیوں میں اسکے بالمقابل فرق بہت نمایاں ہے۔قتل عام نسبتا شاذ ہی تھا اور مسلمان اس میں بالکل شریک کارنہ ہوتے تھے۔قتل عام کو اخلاق نہ صرف معیوب سمجھا جاتا تھا بلکہ ایسا کرنا بھی خلاف قانون تھا۔چونکہ 23