سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 22 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 22

رشدی کے عقب میں سائے رشدی کو اپنی کرتوتوں کے نتائج کا ضرور پہلے سے علم ہوگا۔یہ ناممکن ہے کہ وہ اس قدر سادہ لوح تھا یا اس کے پس پشت میں جو طاقتیں کارفرما تھیں وہ اس قدر طاقتور تھیں کہ اس کی مجال نہ چل سکی یا وہ خود کو ان سے کنارہ کش نہ کر سکا۔یا پھر اگر مافیا سٹائیل کا محاورہ مستعار لیا جائے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ اسے ایسی پیش کش کی گئی کہ وہ اسے ٹھکرانہ سکا۔اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہ سلمان رشدی جیسے ایک فرد کا کام نہیں تھا۔اگر اسلام کے بارہ میں اس کے محدود علم کو ، اس کی غیر اسلامی پرورش کو، اس منصوبہ کی پشت پر مالی امداد کو اور نبی پاک سرور کائنات ﷺ اور اسلام پر جو علمی حملے ہوئے ان کو دیکھا جائے تو یہ تمام حقائق اس بات کی غمازی کر رہے ہیں کہ یہ مذہب کے خلاف ایک زبر دست سازش تھی جس سے مغربی طرز فکر اور اصول پرستی کو ٹھیس پہنچتی تھی۔تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کے مابین سازش تھی جس میں انہوں نے کرایہ کے ٹو سے ساز باز کی جو آج کے زمانے میں فاؤسٹ (Faust) کہلانے کا حقدار ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ گٹھ جوڑ کا ازدواجی رشتہ جنت کی بجائے کسی اور مقام پر تیار کر کے عمل میں لایا گیا تھا۔اسلام اور حضرت نبی پاک ﷺ پر ازمنہ وسطی سے لے کر آج تک جو حملے ہوئے ہیں میں ان میں سے چند ایک کا جائزہ لوں گا اور دکھاؤں گا کہ ان میں کس قدر گہری مماثلتیں ہیں جو مبصرین اور مستشرقین کی علمی تصانیف میں پائی جاتی ہیں۔اور یہ بھی عیاں ہو جائیگا کہ کسطرح محدود مکتب فکر اور حوالہ جات کو مغربی مصنفین نے صدیوں سے استعمال کیا ہے اور انہوں نے اسلام اور اس کے پاک پیغمبر ﷺ کی بلا ثبوت کے مسخ شدہ تصویر پیش کی ہے۔اور یہ بھی واضح ہو جائیگا کہ سلمان رشدی کی کتاب The Satanic Verses کی آخری شکل ان تمام حملوں کی اصل غرض ہے جو ماضی میں آنحضرت ﷺ پر ہوتے آئے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ یہ کتاب انتظامی اور بد ارادوں کے ساتھ مخش ترین لب ولہجہ میں لکھی گئی تھی۔22