سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 21 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 21

مخالف ہیں اور چونکہ وہ فطری خیالات کے ہوتے ہیں اس لئے وہ مذہب سے عناد پیدا کر لیتے ہیں۔کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے نو جوان، قبل اس کے کہ تعلیم مکمل کریں ، وہ مذہب کے لیئے اپنے فرائض کو فراموش کر کے مذہب کو ہی خیر باد کہہ دیتے ہیں۔کچھ اس قسم کے ماحول کا پرورده شخص افق پر ابھرا اور مغرب کے ہاتھوں میں آلہ کار بن گیا۔اور جب اس سے ان گنت دولت کا وعدہ کیا گیا تو وہ بھی مغرب کے جرم میں برضا ورغبت شریک کار بن گیا۔یہ شخص سلمان رشدی تھا۔یہ اس کی خوش قسمتی ہوتی اگر اس نے حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود و مہدی علیہ السلام کی ایک نظم میں کی گئی نصیحت کی طرف توجہ کی ہوتی اے برادر دل منہ در دولت دنیائے دوں زہر خوں ریز ست در ہر قطرہ ایس انگبیں فتح اسلام صفحہ نمبر 45 ، روحانی خزائن جلد نمبر 3) امر واقعہ تو یہ ہے کہ یہ سلمان رشدی کا ہی قلم تھا جس نے کتاب ادی سیٹنگ ورسز' The Satanic Verses لکھ کر مہلک ترین زہر اگلا۔یہ سب کچھ کس طرح وقوع پذیر ہوا ؟ وہ کس طرح انہونے کام پر تیار ہو گیا؟ اس کا ذہن اس طرف کیسے گیا جس کا کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا؟۔کیا اس میں مالی منفعت سے بڑھ کر بھی کوئی عصر شامل تھا ؟ کیا اس واقعہ کا تعلق سیاست سے تھایا کہ مذہب سے؟ کیا یہ مذکورہ امور کوملاکر تیار کی گئی سازش تھی جو معاندین اسلام نے تیار کی تھی؟ کیا اس کو مکمل پیکیج بنا کر سلمان رشدی کو پیش کیا گیا تھا جس میں اس کو پیشگی معاوضہ رقوم (Royalties) دی گئیں جو مشروط تھیں؟۔کیا پھر ا سے حکم دیا گیا کہ جاؤ سر دھڑ کی بازی لگا دو اور جو بھی ذلیل ترین کام کر سکتے ہو کر دکھا ؤ؟ اس نے ضرور اس بچے کی طرح محسوس کیا ہو گا جسے چاکلیٹ فیکٹری میں ہنگامہ آرائی کا پروانہ دے دیا گیا ہو۔وہ اپنی لانچی آنکھوں پر بہ مشکل یقین کر سکا ہوگا۔لیکن جیسا کہ حقائق سے ظاہر ہے وہ اس میں سے ایک جانور بن کر نکلا، جو غلاظت میں لت پت تھا۔اور اس سے لالچ ،منافقت ،شنید، خدا کی شان میں گستاخی اور ارتداد کی بو آرہی تھی۔21