سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 20 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 20

اہل مکہ تعداد میں بہت زیادہ تھے۔بعض دفعہ ایک مسلمان کے مد مقابل تین مکہ والے ہوتے تھے۔انہیں وافر تعداد میں سامان رسد، ہتھیار، گھوڑے اور اونٹ مہیا تھے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ کبھی مہارت یافتہ اور تجربہ کار سپاہی تھے۔لیکن اس واضح فرق کے باوجود فتح و ظفر مسلمانوں کو بار بار نصیب ہوئی کیونکہ وہ روحانی طور پر ایک ماوراء گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔نیز ان کا ایک خدا پر غیر متزلزل اور یقینی ایمان تھا۔وہ اپنے عظیم راہنما کی مکمل اور نہ دل سے اطاعت کرتے تھے۔مزید برآں ان میں جو با افراط صفات پائی جاتی تھیں ان کی بنیا دصدق اور اطاعت پر تھی۔نیز مشکل وقت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے تھے۔اگر ہم پہلے دور کا آج کے دور سے مقابلہ کریں تو بڑی گہری مماثلت نظر آتی ہے۔برتری کے تمام وسائل مغرب کی یہودی اور عیسائی اقوام کو میسر ہیں۔انہیں ذرائع ابلاغ یعنی ٹیلی ویژن، ریڈیو، اخبارات پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔اگر چہ یہ امر بظاہر نظر نہیں آتا تا ہم ان تمام ذرائع کو اسلام اور اسلام کے مقاصد کے خلاف بلا روک ٹوک متواتر استعمال کیا جاتا ہے۔ہر جہت سے کوئی موقعہ کھوئے بغیر حملے کئے جارہے ہیں۔یہ بلاشبہ پرانے دور کے اہل مکہ کی ہتھیاروں میں بالا دستی کے مترادف ہے۔ان کی مادی طاقت کا انسان کو ہر وقت ہر جگہ احساس ہوتا ہے۔اس کا مظاہرہ خلیج کی جنگ کے دوران نمایاں طور پر ہو گیا تھا جب وہ غنڈہ گردی کی دھمکیاں دینے لگے اور اتحادیوں کی مجموعی طاقت کو ایک مسلمان قوم کے مقابلہ پر لا کر کھڑا کر دیا۔مغربی اقوام کے اتحادیوں کے عزائم لوگوں پر واضح تھے لیکن میں اس موضوع کی تفصیل میں یہاں جانا نہیں چاہتا۔میں مغربی مستشرقین کے زہر یلے قلم کا جواب دینا چاہتا ہوں اور ایسے لوگوں کی نقاب کشائی کروں گا جن کے سحر اور ہاتھ کی صفائی کو استعمال میں لا کر خطر ناک خیالات اور شیطانی وساوس کو اکسانے کی کوشش کی گئی ہے۔ان مستشرقین کے ساتھ بعض دوسرے فلسفی اور مبصرین (بشمول چند آزاد خیال اصلاح شده مسلمان ) بھی ملے ہوئے ہیں جو ایسی کتابوں کے مطالعہ میں اس قدر کھو جاتے ہیں کہ وہ اپنے دینی عقائد کو پس پشت ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔وہ الہامی صداقت کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔وجود اور ہستی باری تعالیٰ جیسے مسائل ان کے نزدیک سنجیدہ نہیں ہیں۔ان میں سے کئی ایک تو مذہب کے 20