سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 19
اس کے ساتھ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ مسلمانوں کے دین کو وہ عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔وہ لکھتا ہے لیکن میں اس سے متفق نہیں اور میں بعد میں بھی اپنی رائے بدلنے والا نہیں جیسا کہ متعدد دیگر مستشرقین ایسا کر چکے ہیں یعنی مبہم محاوروں کے ذریعہ اصل مطلب کو چھپالوں " (Rodinson, Mohammed, page 218) ہانس کنگ (Hans Kung) جو ایک بے باک جرمن ماہر الہیات ہے وہ بھی عیسائیوں کے قرآن کریم کے مطالعہ کی اصل غرض بیان کرتا ہے۔اس نے اس بات کا سراغ ازمنہ وسطی کے زمانہ تک جالگایا ہے۔وہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے "جہاں تک لوتھر کا تعلق ہے وہ اس بات کے حق میں تھا کہ قرآن کا ترجمہ اور اس کی اشاعت ہونی چاہئے محض اس لئے تاہر ایک کو معلوم ہو سکے کہ یہ کیسی ملعون ،شرمناک اور مایوس کن کتاب ہے جو جھوٹ سے لبریز ، من گھڑت باتوں اور خوفناک (Kung, Christianity and the World Religions, page 20) چیزوں پر مبنی ہے" مصنف نے تیر نشانہ سے کچھ زیادہ دور نہیں پھینکا۔میرے خیال میں وہ یہ کہہ کر فراخدلی کا اظہار کر رہا ہے کہ آجکل کے سکالرز بڑے روادار ہیں۔یہ بات عوام کے بارہ میں تو ٹھیک ہوسکتی ہے کیونکہ سکالروں کی رائے پہلے سے زیادہ پختہ ہے کہ وہ محمد صلعم کے دین سے محض نفرت کی بناء پر اسلام کی مسخ شدہ تصویر کو قائم و دائم رکھ سکیں۔ایک زیادہ سوچا سمجھا فارمولا جو آجکل کے سکالروں پر چسپاں ہوتا ہے وہ کچھ یوں ہوگا: " جہالت سے چل کر گستاخیوں کے راستہ سے ہوتے ہوئے نفرت پر منتج "۔اسلام پر حملوں کا موازنہ اسلام پر ابتداء میں جو حملے ہوئے ان کا عصر حاضر میں ہونے والے حملوں سے موازنہ کیا جاسکتا ہے۔حضرت نبی پاک ﷺ کے زمانہ میں خاص طور پر جنگی میدانوں میں مسلمانوں پر دشمن کا پلہ ہمیشہ بھاری ہوتا تھا۔وہ عملی طور پر کمترین ہوتے تھے ، وہ تعداد میں کم ہوتے تھے، ان کے پاس ہتھیار کم ہوتے تھے، ان کے پاس دشمن کی نسبت کم گھوڑے اور کم اونٹ ہوتے تھے، اور اکثر مسلمانوں کو جنگ کے داؤ پیچ کی کوئی تربیت نہ تھی ، نہ ہی میدان جنگ کا تجربہ۔اس کے برعکس 19