سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 18
کہ انہوں نے قرآن پاک اور احادیث میں نقائص اور تضاد تلاش کرنے ہیں۔وہ اسلام کے خلاف حملوں کے لئے ہر قسم کے ذرائع کو استعمال کرنے لگے اور بدترین غلاظت اچھالنے کے لئے نبی پاک ﷺ کو ہدف بنالیا۔شاید کچھ یہودی اور عیسائی ایسے بھی تھے جنہوں نے خود اپنے انبیاء کرام کی جد و جہد کو فراموش کر دیا تھا اور نا دانستہ طور پر ایک مشتر کہ دشمن یعنی اسلام کے خلاف متحد ہو گئے۔اس منظر کا مختصر سا خا کہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام نے ان الفاظ میں پیش کیا ہے: "عیسائی لوگ اسلام کے مٹا دینے کے لئے جھوٹ اور بناوٹ کی تمام باریک باتوں کو نہایت درجہ کی جانکا ہی سے پیدا کر کے ہر ایک رہزنی کے موقع اور محل پر کام میں لا رہے ہیں اور بہکانے کے نئے نئے نسخے اور گمراہ کرنے کی جدید جدید صورتیں تراشی جاتی ہیں اور اس انسان کامل کی سخت تو ہین کر رہے ہیں جو تمام مقدسوں کا فخر اور تمام مقربوں کا سرتاج اور تمام بزرگ رسولوں کا سردار تھا۔یہاں تک کہ ناٹک کے تماشاؤں میں نہایت شیطنت کے ساتھ اسلام اور ہادی پاک اسلام کی برے برے پیرائیوں میں تصویریں دکھلائی جاتی ہیں اور سوانگ نکالے جاتے ہیں اور ایسی افترائی تہمتیں تھیڑ کے ذریعہ سے پھیلائی جاتی ہیں جن میں اسلام اور نبی پاک کی عزت کو خاک میں ملا دینے کیلئے پوری حرامزدگی خرچ کی گئی ہے۔۔۔اسلام کی پاک تا شیروں کے روکنے کیلئے جس قدر پیچیدہ افترا اس عیسائی قوم میں استعمال کئے گئے اور پر مکر حیلے کام میں لائے گئے اور ان کے پھیلانے میں جان تو ڑ کر اور مال کو پانی کی طرح بہا کر کوششیں کی گئیں یہاں تک کہ نہایت شرمناک ذریعے بھی جن کی تصریح سے اس مضمون کو منزہ رکھنا بہتر ہے اسی راہ میں ختم کئے گئے " فتح اسلام صفحہ 5۔روحانی خزائن جلد نمبر 3) عصر حاضر کے مغربی مستشرقین نے بھی گزشتہ صدیوں کے اپنے ہم منصبوں کے در پردہ عزائم کا اعتراف کیا ہے۔میکسم روڈنسن (Maxim Rodinson) جو ایک فرانسیسی مستشرق ہے وہ اپنی کتاب امحمد امیں مغربی قلم کاروں کے بد عزائم کا اعتراف کرتا ہے اگر چہ وہ خود کو اس زمرہ میں شامل نہیں کرتا۔وہ کھلم کھلا قرآن پاک کے کلام الہی ہونے کے دعوی کی مذمت کرتا ہے اگر چہ 18