سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 165 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 165

شروع کر دیں: اگر چہ میرا تعلق مسلمان گھرانے سے ہے لیکن میری پرورش کبھی بھی ایک سچے مسلمان کے طور پر نہ ہوئی تھی۔میری پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جس کو عمومی طور پر آزاد مذہب انسانیت کہا جاتا ہے"۔پھر وہ کہتا ہے : " میں یقیناً ایک اچھا مسلمان نہیں ہوں۔لیکن اب میں اس موڑ پر ہوں کہ کہہ سکوں کہ میں مسلمان ہوں۔بلکہ یہ چیز خوشی کا باعث ہے کہ میں اب حلقہ اسلام میں ہوں۔ایسے معاشرہ کا حصہ ہوں جس کی اقدار مجھے ہمیشہ ہر دلعزیز رہی ہیں"۔پھر وہ اپنے ناول کا بددلی سے دفاع کرنیکی کوشش کرتا ہے: "میں دو سال سے زیادہ عرصہ سے یہ واضح کرنیکی کوشش کر رہا ہوں کہ ا دی سٹینک ورسزا کے لکھنے کا مقصد کسی کی تو ہین نہ تھا۔مزید یہ کہ مذہب پر حملے کتاب کے مرکزی کردار کی تباہی کی علامت ہیں نہ کہ مصنف کے نقطہ نظر کی مثال "۔مصیبت یہ ہے کہ وہ کتاب میں توہین آمیز مواد ہو نیکا اعتراف کرتا ہے لیکن اس مواد کا اس کے اپنے ذاتی خیالات ہو نیکی تردید کرتا ہے۔شاید یہ اس کے ساز باز کر نیوالے آقاؤں کے نقطہ نظر کی مثال ہے جنہوں نے اس کو پیشگی رقم ناول لکھنے کیلئے دی تھی۔انسان جتنا زیادہ اس کے بیان کا مطالعہ کرتا ہے اتنا ہی زیادہ اس بات سے آگاہ ہوتا ہے کہ رشدی بڑی نا امیدی سے تنکوں کا سہارا لے رہا ہے۔ایک طرف تو وہ بودے بہانے بنا کر اپنے ادبی کام کا اور اس کے تخیلاتی مواد کا دفاع کرتا ہے تا کہ اس کو اسلامی برادری میں ایک بار پھر شامل کر لیا جائے مگر دوسری طرف وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی کتاب کو من وعن قبول کر لیا جائے۔یہ مضمون متنازع باتوں کا مجموعہ ہے، بالخصوص دو بیانات جو قریباً ایک دوسرے کے آمنے سامنے شائع ہوئے ہیں۔بیان نمبر ایک :" خیر سگالی کی نئی فضا میں حصہ ڈالنے کے طور پر میں اس بات پر رضا مند ہوا ہوں کہ میں ا دی سٹینک ورسز' کے نئے ترجمہ کی اجازت نہ دوں گا، اور نہ اس کا پیپر بیک ایڈیشن شائع ہو گا جب تک کہ مزید تو ہین کا خدشہ باقی رہتا ہے"۔بیان نمبر دو: "میرے خیال میں کتاب کا مہیا ہونا جاری رہنا چاہئے تا کہ رفتہ رفتہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ یہ ہے کیا۔میں Penguin Books ( پینگوئین بکس) سے اس امکان پر بات کروں گا کہ جو مجلد ایڈیشن دستیاب ہیں ان میں اس بیان کا اضافہ کر دیا جائے کہ اس کا مقصد 165