سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 125
آپ کے سامنے آؤں، میں آپ کے سامنے آکر بیٹھ گیا، آپ کو اپنی روئید ادسنائی اور مجھے خوشی ہوئی کہ آپ کے صحابہ بھی اسے سن سکے۔اس کے بعد میں حلقہ بگوش اسلام ہو گیا" (Extracts from Mohammad by Martin Lings) حضرت سلمان فارسی کا شرفاء جیسا کردار ان کے عادات واطوار اور صداقت کی پہچان سے صاف نظر آتا تھا مگر ایسی برگزیدہ ہستیوں کی بدگوئی کرنے سے بھی رشدی باز نہیں رہا۔امر واقعہ تو یہ ہے کہ سلمان رشدی کی تحریروں میں یہ بات نظر آتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کا کوئی احترام نہیں کرتا چاہے ان کا تعلق کسی بھی فرقہ سے ہو۔اس کی تحریروں میں فکشن کا مصنوعی لبادہ جسے وہ اپنے در پردہ محرکات کو چھپانے کیلئے استعمال کرتا ہے وہ نا قابل یقین حد تک ظاہر و باہر ہے۔اگر چہ اس نے ایک پوری کتاب شیم (Shame ) کے نام سے لکھی ہے یہ ایک ایسی صفت ہے جو اس میں بالکل مفقود ہے۔جب اس کا دل رسول اللہ کے خلاف دشنام طرازی کر کے نہیں بھرتا تو وہ آپ کے معزز صحابہ کرام کی عزت مٹی میں ملانے کے درپے ہو جاتا ہے جو زخم پر نمک چھڑ کنے سے مترادف ہے۔بلکہ وہ صحابہ کرام جن کو تمام اسلامی فرقے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ، وہ صحابہ جن کی زندگیوں کی مثالیں دیکھ کر لوگ مدح اور احترام کے گن گاتے ہیں ان کو بھی اس نے نہیں بخشا۔ان اصحاب میں سے ایک بزرگ انسان سلمان فارسی تھے ، جن کی اسلام کے لئے قربانیاں اور ان کی وفاداری کو تمام اسلامی دنیا تسلیم کرتی ہے۔آپ کے علم اور اخلاص کا اعتراف تو خود رسول مقبول ہ نے کیا تھا۔ایک اور واقعہ اس بیان کی صداقت پر گواہ ہے جو شاید حضرت سلمان فارسی کی تاریخ اسلام میں سب سے مشہور خدمت بھی تھی۔اور یہی واقعہ سلمان رشدی نے ادی سٹینک ورسز میں حسب معمول تحقیرانہ انداز میں پیش کیا ہے (صفحہ 366 )۔یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں کو مکہ سے میٹر ب جو مکہ کے شمال میں 250 میل کے فاصلہ پر واقعہ تھا، ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔(بعد میں میثرب مدینہ النبی کے نام سے معروف ہوا، یا صرف مدینہ )۔فخر کائنات ﷺ کی ہجرت کے موقعہ پر مدینہ میں کچھ مقامی لوگوں کی ایسی تعداد موجود تھی جو اسلام قبول کر چکے تھے، ان کو انصار کہتے تھے۔وہ مسلمان جنہوں نے مدینہ رسول اللہ کے ساتھ ہجرت کی یا ان کے بعد ، ان کا نام 125