سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 11 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 11

ان دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ارشد احمدی صاحب کی کتاب اہل مشرق کی انتہا پسندی کو رد کرتی اور اہل مغرب کے رویہ کی مذمت کرتی ہے۔یہ ہمیں بتاتی ہے کہ جہاں تک فتویٰ جاری کرنے کا تعلق ہے اس کا جواز اسلامی تعلیمات میں کہیں نہیں ملتا۔اہل مغرب کے رویہ کی مذمت کرتے ہوئے ارشد احمدی صاحب ایک قدم اور آگے گئے ہیں تا کہ اس سارے معاملہ میں مغرب کے شر انگیز کردار کو بے نقاب کیا جاسکے۔مصنف نے خوب واضح کیا ہے کہ جذبات مجروح کرنے والے اس نوع کے ناول کی اشاعت کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔بلکہ اسلام اور بانی اسلام ﷺ کے خلاف نفرت کا نتیجہ ہے جو آغاز اسلام سے لے کر گذشتہ چودہ صدیوں سے بھڑک رہی تھی۔آنحضرت ﷺ کے دور رسالت میں جو سازشیں ہوئیں ان سے لے کر کلیائی جنگوں کی بربریت تک کو تفصیلا دیکھا گیا ہے،اس بر بریت کی بازگشت خلیج کی 1991 ء والی جنگ میں بھی سنائی دیتی ہے۔مصنف نے مغربی مستشرقین کے کردار پر بھی روشنی ڈالی ہے۔جنہوں نے اخلاص کا لبادہ اوڑھ کر اپنی تحریروں میں اسلام اور بانی اسلام ﷺ کے خلاف نفرت کے بیج بوئے ہیں۔اسلام کے خلاف عداوت کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دشمنی کی اس آگ کو بعض مسلمانوں نے خود بھڑ کا یا ہے۔مغرب کی مادی ترقی سے چکا چوند ہو کر بعض مسلمان دانشوروں نے اسلام کے اس مسخ شدہ رُخ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے شروع کر دئے ، اس لئے وہ بھی اس نفرت کے ذمہ دار ہیں۔سلمان رشدی ادب کی اس صنف کا نتیجہ ہے جس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ اس کی تمام تحریروں کا احاطہ کیا جائے۔اس کے بارہ میں یہ چیز خاص نوٹ کی گئی ہے کہ اس پر سیکس (جنس) کا خبط اس قدر سوار ہے کہ جو اسے مخش بازاری زبان میں لکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ایسی مخش عبارتیں اس کی تحریروں کا امتیازی وصف ہیں بشمول بچوں کیلئے لکھی گئی کتابوں کے۔رشدی میں یہ چیز بھی قابل ذکر ہے کہ وہ غرور اور خود فریبی میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے وہ شہرت حاصل کرنے کیلئے کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ایک لحاظ سے یہ شہرت کے ساتھ رنگ رلیاں منانے کے موقعہ کا امکان ہی تھا جس نے اسے ایسا قابل نزاع ناول لکھنے پر آمادہ کیا۔آخر کار اس کے قلم سے نکلی ہوئی کتاب نے آنحضرت ﷺ اور تاریخ اسلام میں مذکور دیگر اسلامی صلى الله 11