سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 162
آزادی تقریر کے نام پر ناول کے لکھنے میں مصروف رہا۔پھر وہ یہ فضول شیخی بھی بھگارتا ہے کہ: "اگر تم کوئی کتاب پڑھنا نہیں چاہتے تو پھر کوئی تمہیں پڑھنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔یہ بہت مشکل ہے کہ کوئی ادی سٹینک ورسز پڑھ کر دلگیر ہو جائے کیونکہ اس کومحو ہو کر پڑہنے کیلئے لمبا عرصہ چاہئے اور یہ ڈھائی لاکھ الفاظ پر مشتمل ہے "۔یہ تنگ نظر مفروضہ اتنا ہی بودہ تھا جتنا کہ یہ نا معقول تھا۔اس صورت حال کو جس سے وہ دو چار ہے ٹھیک کرنے کیلئے اس کو اس سے بہتر عذر تر اشنا ہو گا۔جب اس سے اس بحث کے بارہ میں استفسار کیا گیا جہاں اس نے قرآن کے تاریخی متن کو ڈرامہ کی صورت میں پیش کیا ہے تو وہ بخوشی تسلیم کرتا ہے کہ یہ سارے کا سارا بچے تاریخی واقعات پر مرتب کیا گیا تھا۔مثلاً وہ کہتا ہے : " ان ابواب میں سارے کا سارا مواد - خوابوں کا سلسلہ - ان کا آغاز تاریخی یا نیم تاریخی ہے اگر چہ آپ پورے وثوق سے محمد کی زندگی میں ہونیوالے واقعات کے بارہ میں کچھ کہہ نہیں سکتے محمد کے بارہ میں دلچسپ بات یہ ہے کہ مقدس کتاب کے علاوہ بھی اس کی زندگی پر قطعی معلومات موجود ہیں "۔پھر رشدی کہتا ہے کہ کتاب لکھنے کا مدعا یہ تھا کہ ایسے موضوعات کو پرکھا جائے جو دوسوالوں کا جواب دیں سکیں : "جب ایک تصور ( اسلام ) دنیا میں ظاہر ہوتا ہے تو یہ دو بڑی آزمائشوں سے دو چار ہوتا ہے : " جب تم کمزور ہو تو سمجھوتہ کر لو۔جب تم طاقتور ہو تو کیا تم روادار ہو ؟ " اس سوال کے جواب میں وہ صاف طور پر حضور نبی پاک ﷺ کے بارہ میں گویا ہے : " جہاں تک ہم محمد کی زندگی کے بارہ میں کچھ کہہ سکتے ہیں۔اس نے امکانی طور پر وحدانیت کے بارہ میں سمجھوتہ کر نیکی ممکنہ کوشش کی تھی جس کو بڑی عجلت سے مستر د کر دیا گیا"۔رشدی کی دیدہ دلیری اور بے ہودگی ملاحظہ کیجئے۔وہ مصر ہے کہ اس ناول کو افسانہ سمجھا جائے اور ساتھ ہی وہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ محمد ﷺ کے بارہ میں لکھ رہا تھا۔نیز یہ کہ 'ماہونڈا سے مراد محمد ( ﷺ ) ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ عمداً مسلمانوں کو اشتعال دلا رہا تھا۔اس مضـ مضمون کا ترمیم شدہ حصہ The Guardian میں 15 فروری 1989 ء کو شائع ہوا تھا )۔رشدی دلیل دیتا ہے کہ ' ماہونڈا سے مراد محمد ﷺ نہیں بلکہ یہ ناول کے کردار جبرائیل کے خوابیدہ دماغ کا شاخسانہ ہے۔رشدی کا دفاع مذہبی بنیادوں کے ہل جانے سے گر جاتا ہے۔پروفیسر یعقوب ذکی 162)