سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 106
عام پاکستانیوں کے ساتھ رشدی کے میل جول پر اس کا تکبر اور شرم کا احساس درج ذیل پیرا گراف میں نظر آتا ہے جب وہ دیہاتیوں کے بارہ میں لکھتا ہے : "اے میرے خدا، یہ جاہل کہاں سے آگیا؟ پسماندہ قسم کے، دیہاتی گنوار، مکمل طور پر کھوٹ والے، اور میں ان کے ساتھ پھنس گیا ہوں "۔(صفحہ 74) اسلامی عقائد اور قرآن پاک کی آیات کریمہ پر اس کی پھبتیاں بھی کتاب میں موجود ہیں جب وہ ایک بار پھر سورۃ الرحمن کی ایک آیت کا دوبارہ حوالہ دیتا ہے ( شاید ایک یہی وہ حصہ ہے جس سے وہ واقف ہے ) ؛ کشمیر کے محاذ پر بھارت اور پاکستان میں جنگ کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے : "ناگز برطور پر یہاں موتیں بھی ہوئیں لیکن جنگ کے ناظمین نے ان کا بہت اچھی طرح خیال رکھا، جو جنگ میں گھات ہوئے ان کو فرسٹ کلاس میں سیدھا ہوائی جہاز سے بہشت کے خوشبو والے باغوں میں لیجایا گیا جہاں ان کیلئے دل کش حور میں منتظر تھیں، جن کو کسی انسان نے یا جن نے چھوانہ تھا۔" تو پھر اپنے رب کی کن کن نعمتوں کا " قرآن سوال کرتا ہے " تم انکار کرو گے؟ (صفحہ 77) یہ اس نفس مضمون کی ہو بہو نقل ہے جس کا استہزاء رشدی نے اپنی گزشتہ کتاب 'Midnight's Children ' میں کیا تھا۔جس کی زبان کی پر اسرار مشابہت ان تحریروں سے ہے جو اسلام کے ابتدائی نقادوں نے استعمال کی تھی جیسے Peter The Venerable ( پیٹر دی و بیز یبل ) اور Thomas Aquinas (ٹامس ایکوینس ) جن کا ذکر اس کتاب کے گزشتہ صفحات میں کیا گیا ہے۔رشدی نے اپنی تمام کتب میں اور بالخصوص پر اشیم ، میں پاکستان کی عام زندگی کے واقعات کا ذکر کیا ہے اور جان بوجھ کرنا سوروں کو دوسروں کے سامنے رکھا ہے۔اسی طرح وہاں پائی جانیوالی رشوت خوری، منافقت، تعصب اور ایسی تمام فتیح باتوں کا ذکر کیا جو اسلامی ریاست پاکستان میں عام ہیں۔اس نے سیاستدانوں، نغمے گانیوالوں، فلمی ستاروں، کھلاڑیوں، مذہبی علماء، ذرائع ابلاغ ، بلکہ عام دیہاتیوں کو بھی اس میں شامل کیا ہے۔رشدی نے گویا مغرب کا ایک جاسوس بن کر کام کیا ہے تا کہ پاکستان کے اسلامی معاشرہ کے تمام فتیح افعال کو، پوری بے حیائی اور بے شرمی سے بیان کر دے۔پاکستانی سیاست پر جب وہ قلم اٹھاتا ہے تو یہ بات جلد ہی ظاہر ہو جاتی ہے کہ وہ ذوالفقار علی 106