سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 10 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 10

اجلاسوں میں پڑھ کر سنائے گئے۔جب مسلمانوں نے احتجاج کیا تو ان پر غیر رواداری اور عہد وسطیٰ کی ذہنیت کے مالک ہونے کی مہر تصدیق لگائی گئی۔سلمان رشدی کی کتاب کو بریڈ فورڈ ( برطانیہ ) میں نذر آتش کرنے پر معاملہ اور بھی بگڑ گیا۔کیونکہ میڈیا نے اس کو موضوع بحث بنالیا اور اس واقعہ کے مناظر کی فلم کو بار بار دکھا یا گیا۔اس بات نے مغرب میں مقیم مسلمانوں کے جذبات کو بھڑ کایا اور وہ طبقہ جو پابندی قانون کے ساتھ پر امن طور پر رہ رہا تھا، اگلی کئی دہائیوں کیلئے اس کا رجحان جارحانہ اور متحار بانہ ہو گیا۔چنانچہ برطانیہ کے مسلمانوں نے جب عدالتوں میں جا کر داد رسی کی تو ان کی مصالحتی کوششیں روز اول سے ہی نا کامی کا منہ تک رہی تھیں۔ایک ایسے معاشرہ میں جہاں کئی مذاہب کے پیروکار بستے ہوں، خدا کی شان میں گستاخی، برطانوی قوانین بادی الرائے میں صرف اہل نصاری کے جذبات مجروح ہونے سے بچانے کیلئے بنائے گئے ہیں نہ کہ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کیلئے ، بالخصوص مسلمانوں کے لئے تو قطعا نہیں۔یہ کہنے کی ضروت در پیش نہیں آتی جب اس کتاب کو اتنی شہرت ملی تو یہ راتوں رات سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب بن گئی۔کئی ممالک میں اس پر پابندی عائد ہونے کے باوجود پہلے سال ہی میں صدہا اور ہزار ہا کی تعداد میں بک گئی۔اشاعتی ادارہ وائیکنگ (Viking ) کی تاریخ میں یہ سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بن گئی۔بہر کیف سلمان رشدی کی قسمت سر بہ مہر ہوگئی۔کتاب کے مخالفین کی طرف سے دھمکیوں اور دشمنی کے جذبات نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ روپوش ہو جائے اور پہلے دو سال میں اس کو اپنا گھر 54 مرتبہ بدلنا پڑا۔تا ہم اس کی انگشت نمائی ہوئی اور اسے آزادی اور آزادی تقریر کے نمائندہ کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔برطانوی حکومت نے اس کی حفاظت کے لئے ٹیکس ادا کرنے والے عوام کے پیسے کو بے دریغ استعمال کیا۔امریکہ کے صدر اور برطانیہ کے وزیر اعظم سے اسے خصوصی ملاقات کا موقعہ دیا گیا۔اگر ایک طرف رشدی کے خلاف مسلمانوں کا رویہ دیکھا جائے اور دوسری طرف اہل مغرب کا رد عمل تو دونوں میں ایک نمایاں فرق نظر آتا ہے۔"رشدی ، بھوتوں کے آسیب میں " 10