حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 9 of 41

حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 9

کرتے تھے اور آپ سے پڑھا کرتے تھے۔جس طرح مردوں میں آپ کے خاوند حضرت میر محمد الحق صاحب کو بہت بڑا مقام حاصل تھا اسی طرح آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت ام داؤد کو بھی احمدی خواتین میں دینی مسائل کو سمجھنے اور سمجھانے اور علمی لحاظ سے ایک اچھا مقام حاصل تھا۔‘(7) جس زمانہ میں آپ دار لانوار قادیان میں رہتی تھیں وہاں یہ پڑھنے پڑھانے کا کام اتنا بڑھ گیا کہ آپ کا گھر سکول بن گیا۔اس میں دارالانوار کے علاوہ نزدیک کے دیہات سے بہت سی عورتیں اور بچیاں آکر پڑھنے لگیں۔سیدہ ام داؤد صاحبہ خود صبح سے دو پہر تک وہاں مصروف رہتیں۔حساب، اردو، انگریزی سب مضمون پڑھائے جانے کا انتظام تھا قرآن مجید آپ خود پڑھایا کرتی تھیں۔آپ کے پڑھانے کا طریق یہ تھا کہ چھوٹی چھوٹی کا پیاں بنا کران پر ہر لفظ علیحد و علیحد و اپنی بیٹی محترمہ سید و بشری بیگم صاحبہ سے لکھوائیں اور فرماتی تھیں کہ قرآن مجید کا ترجمہ سیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر لفظ کے معنے آتے ہوں۔روزانہ آپ خود ہمارا سبق سن کر آگے پڑھا تیں۔ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا شوق دلاتیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال کرتے ہوئے لڑکیوں کی تربیت فرماتیں۔آپ کی توجہ اور محنت کا یہ نتیجہ نکلا کہ پڑھنے والیوں نے ایک سال میں دو سالوں کا کورس مکمل کر لیا۔یہ سکول کئی سال جاری رہا۔(1) 1914 ء کا جلسہ سالانہ اس لحاظ سے پہلا جلسہ تھا جس میں عورتوں نے