حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 35
35 واقف زندگی اور جماعت میں ایک مقام رکھنے والے تھے۔آپ کا مسکراتا اور بارعب چہرہ ، مگر مزاج نہایت دھیما اور نرم، حافظہ کمال کا کہ سلسلہ احمدیہ کے پرانے بزرگوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفقاء کے بارہ میں آپ کو بڑی معلومات تھیں۔آپ جامعہ احمد یہ ربوہ میں تخصص کرنے والے مربیان کے نگران تھے۔ڈنمارک اور سوئزرلینڈ میں بھی آپ بطور مبلغ رہے۔پیارے بچو! حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہ کے سب سے چھوٹے اور تیسرے صاحبزادے میر محمود احمد صاحب ناصر جو جامعہ احمد یہ ربوہ کے پرنسپل ہیں اور آپ اُن کو اکثر mta پر درسِ حدیث سناتے ہوئے بھی دیکھتے ہیں۔اور اللہ کے فضل سے دینی خدمات میں مصروف ہیں۔اسی طرح آپ کی سب سے چھوٹی بیٹی سیدہ آنسہ شوکت صاحبہ جو آج کل امریکہ میں رہتی ہیں۔خدمت دین اور ساری عمر دینی علم حاصل کرنے کا شوق رہا۔بچو! یہ تھیں سیدہ صالحہ بیگم صاحبہ جو اپنے بیٹے کی پیدائش کے بعد ام داؤد کے نام سے جانی جاتی تھیں۔جنہوں نے اپنی اولاد کی بہترین تربیت کی ، ساری زندگی علم حاصل کرنے میں، خدمت دین اور خدمت خلق میں، گھر کے سارے کاموں کو سلیقے سے چلاتی ہوئی ، عاجزی، انکساری سے گزاری اور ہم سب کے لئے ایک مثال چھوڑ گئیں۔اگلی نسل میں آپ کے پوتوں اور نواسوں نے بھی زندگیاں وقف کرنے کی توفیق پائی۔