حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 34
34 حضرت سید میر داؤ د احمد صاحب بھی اپنے عظیم والدین کی طرح زندگی وقف تھے۔آپ صرف 33 سال کی عمر میں جامعہ احمد یہ ربوہ کے پرنسپل بنے اور تا وفات تقریباً 16 سال پرنسپل رہے۔آپ کا اپنے طلباء کے ساتھ بہت پیار کا سلوک تھا، خاموشی سے ان بچوں کی مالی مدد کرتے ، ایسے کہ جو دائیں ہاتھ نے دیا اس کی بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہوئی۔خدمت درویشاں کا اہم کام بھی آپ کے پاس تھا۔اور دو سال تک آپ صدر خدام الاحمدیہ بھی رہے۔سب سے اہم ذمہ داری افسر جلسہ سالانہ کی تھی جو سال ہا سال سے آپ کے سپر تھی۔جلسہ سالانہ پر آنے والوں کا رات اور دن خیال رکھنا۔اُن کے ٹھہر نے ، اُن کے کھانے پینے اور ہر قسم کی ضروریات کا پہلے سے انتظام کرنا سب ان کے ہی سپر د تھا۔آپ نے بہت پر سکون طبیعت پائی تھی۔کسی قسم کے بھی حالات ہوں، آپ کوئی ہے چیلی، گھبراہٹ یا جلد بازی ظاہر نہیں کرتے تھے۔اپنے عظیم باپ کی طرح آپ بھی یتیم وغریب بچوں کی جائے پناہ تھے۔اور ان بچوں کی تعلیم و تربیت کا خود انتظام فرماتے تھے۔آپ کا خلیفہ وقت سے اطاعت ، وفا اور عشق کا تعلق اس حد تک تھا کہ دیکھنے والے خواہش کرتے تھے کہ کاش وہ بھی اس طرح کے ہوں۔اور آپ پر بھی خلیفہ وقت کی خاص محبت کی نظر تھی۔حضرت سید میر مسعود احمد صاحب بھی واقف زندگی تھے۔یقیناً آپ کے والدین ہی کی نیک تربیت اور دعائیں ہی تھیں جن کی وجہ سے تینوں بیٹے