حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 27 of 41

حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 27

27 27 محسوس کرتیں۔محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب حضرت مصلح موعود کے بیٹے ، حضرت سیدہ صالحہ بیگم کی وفات پر لکھتے ہیں کہ۔”میرے نزدیک جماعت کی مستورات میں سے آپ کو سب سے زیادہ دینی علوم پر عبور حاصل تھا۔عربی اچھی طرح بول اور پڑھ لیتی تھیں سلسلہ کی کتب اور مسائل سے خوب واقف تھیں۔میں نے خود بخاری شریف (حدیث کی کتاب) کا کچھ حصہ سبقاً ان سے پڑھا ہے۔ان بزرگ ہستیوں کے اس جہان سے گزر جانے پر ہمیں غور کرنا چاہئے کہ کیا جماعت کی نئی پودان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہی ہے؟ اگر کر رہی ہے تو اس میں کس حد تک کامیاب ہے اگر ایسا نہیں تو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے۔زندہ قوموں کی یہ نشانی ہوتی ہے کہ اس کے کسی فرد کی وفات سے جو خلاء پیدا ہوتا ہے اسے پُر کرنے والے دوسرے موجود ہوتے ہیں۔اور اسی طرح جماعتی کام کو نقصان نہیں پہنچتا۔خدا تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم اپنے بزرگوں کے قائمقام بن سکیں اور ان کے ناموں کو روشن کرنے والے ہوں۔‘ آمین (8) اسی طرح حضرت خلیفہ امسیح الرابع " آپ کی وفات پر ایک مضمون میں لکھتے ہیں:۔اپنی کم علمی کے باوجود جب میں آپ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں