حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 22
22 بھی چلا لیتی تھیں۔اور کھیلوں میں بیڈمنٹن پسند کرتی تھیں۔جلسہ کے بنائے گئے ایک بڑے سامان کے سٹور میں کبھی کبھار ٹینس (Tennis) بھی کھیلا کرتی تھیں۔آپ تمام رشتہ داروں میں بہت ہر دلعزیز تھیں خصوصیت سے حضرت اماں جان تو آپ سے بہت محبت کرتیں اور آپ کا خیال رکھتیں۔حضرت میر محمد الحق صاحب کی وفات کے بعد خاندان میں کسی کی شادی تھی۔حضرت اماں جان ولین کو مہندی لگوا رہی تھیں کہ آپ کی نظر حضرت سیدہ صالحہ بیگم پر پڑی آپ نے انہیں بلوایا اور فرمایا ”صالحہ ! تم بھی مہندی لگاؤ حضرت سیدہ نے نہ جانے کیا سوچ کر عرض کی کہ ”میں کیسے لگاؤں میں تو بیوہ ہوں۔“ اس پر حضرت اماں جان نے نہایت محبت سے آپ کو بلایا اور فرمایا ! تم آؤ اور مہندی لگاؤ تم تو سدا سہاگن ہو۔تم نے یہ کیوں سوچا کہ تم اکیلی ہو۔“ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع " نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے:۔”آپ کی بیماری کے دنوں میں کچھ دیر مجھے لا ہور میں ٹھہرنے کا موقع ملا۔اپنی چارپائی کے قریب ہی دستر خوان لگواتی تھیں تا کہ بچوں کی باتوں سے دل پہلے۔پڑی خاموش سنا کرتی تھیں۔جسم بہت نحیف ہو چکا تھا۔بولنے کی بھی سکت نہ تھی۔مگر جب بھی کوئی علمی تذکرہ ہوتا آپ کبھی کبھی بہت کوشش اور جدو جہد سے اس بحث میں شریک ہو کر ہماری غلطیوں کو درست فرما دیتی تھیں، بس زیادہ نہیں یہی ایک دو کلمات مگر بہت کافی اور بہت جامع ہاں ایک اور