حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 16
16 ہوئی تھیں ان کا پندرہ روزہ اجلاس شروع ہو چکا تھا۔کبھی کبھی لجنہ اماءاللہ لا ہور اور لجنہ اماء اللہ قادیان کا تربیتی جلسہ اکٹھا بھی ہو جاتا تھا۔عام اجلاس الگ الگ ہی ہوتے۔قادیان کی مہاجر ممبرات کی صدر حضرت سیدہ ام داؤد صاحبہ تھیں۔آپ نے حسب عادت لجنہ اماء اللہ کے کام میں پوری توجہ لگادی اور کچھ اس طرح شوق اور دلچسپی پیدا کی کہ لجنہ اماء اللہ لاہور میں بھی بیداری کی لہر دوڑ گئی اور وہ اجتماعی کاموں میں بھی نمایاں حصہ لینے لگیں۔لجنہ لاہور کی عہد یداروں اور کارکنات نے ان ایام میں حضرت سیدہ ام داؤد صاحبہ سے بہت کچھ سیکھا اور اپنے کاموں میں اصلاح اور تربیت حاصل کی۔1950ء میں پاکستان میں الیکشن ہوئے چونکہ سیدہ ام داؤد صاحبہ نے 1946ء کے الیکشن کا کام بہت احسن طریق پر کیا تھا اس لئے اب بھی یہ کام آپ کے سپرد ہوا۔ووٹروں کی لسٹیں تیار کروائی گئیں۔پولنگ کے لئے نہ صرف ربوہ ، چنیوٹ، احمد نگر، کھڑکن اور کوٹ امیر شاہ وغیرہ کی عورتوں کو ووٹ کی اہمیت سمجھائی گئی بلکہ ووٹ ڈالنے کا طریق بھی بتایا گیا۔ایک دفعہ پھر حضرت ام داؤد صاحبہ نے اس کام کو بہت اچھے طریقے سے ادا کیا۔گورنمنٹ کے افسران نے تسلیم کیا کہ نظم وضبط اور محنت سے کام کرنے میں احمدی عورت بھی کسی سے پیچھے نہیں۔(7)