حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 10 of 41

حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 10

10 بھی جلسہ کے پروگرام میں مردوں سے علیحدہ حصہ لیا، تقریریں کیں اور مضمون سنائے۔حضرت صالحہ بیگم صاحبہ نے بھی زنانہ جلسہ میں اپنا لکھا ہوا مضمون پڑھا۔آپ کو دینی خدمت کا بے حد شوق تھا۔شادی کے بعد ابتدائی زمانہ علم سیکھنے میں گزرا اور پھر لجنہ اماء اللہ کے قائم ہوتے ہی آپ نے لجنہ اماءاللہ کے ہر کام میں حصہ لیا۔جو خدمت بھی نظر آتی آپ اس کیلئے سب سے پہلے تیار ہوتیں۔پھٹے پرانے ، میلے کمبلوں اور کپڑوں کو قومی ضرورت کی خاطر پیوند لگاتیں۔اور جب تک تمام کام ختم نہ ہو جاتا آرام کی نیند نہ سوتیں۔آپ کی خواہش تھی کہ احمدی عورتیں حضرت محمد ﷺ کے زمانے کی عورتوں کی طرح ہو جائیں۔جو لوگ غریب اور یتیم تھے ان کی مدد کیا کرتی تھیں۔جس طرح آپ کے شوہر کیا کرتے۔آپ میں یہ بہت بڑی خوبی تھی کہ جب کام ختم ہو جاتا تو پوچھنے پر یہ کام کس نے کیا ہے بھی نظر یہ طور پر بڑھ بڑھ کر اپنا ذکر نہ کرتیں بلکہ حد درجہ عاجزی سے ہمیشہ اپنی ساتھی عورتوں میں سے کسی کا نام بتا دیتی تھیں۔اس سے آپ کا مقصد جھوٹ بولنا نہیں ہوتا تھا بلکہ دوسروں کی حوصلہ افزائی مقصود ہوتی تھی۔اور انکساری بھی انتہا درجہ کی تھی۔جس کی وجہ سے یہ کیا کرتی تھیں۔اور کیوں نہ ایسا ہوتا۔آپ نے بقول حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے ہاتھوں سے ان کی خدمت کی اور اپنے کانوں سے ان کی باتوں کو سنا۔“ (15)